اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

سانحہ بلدیہ ٹائون ، عدالت نے کس اہم  ملزم کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا 

datetime 22  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)انسداد دہشتگردی عدالت  نے سانحہ بلدیہ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے ۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ رحمان بھولا اور زبیر چریا کو264 افراد کے قتل میں 264مرتبہ سزائے موت دی جائے۔مجرموں پر60 لوگوں کو زخمی کرنے کے جرم 10 ،10 سال قید اور 1 , 1 لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا جبکہ کیس کے مفرور ملزم حماد صدیقی اور علی حسن قادری کے

دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ۔عدالت نے حکم دیا کہ مفرور ملزمان جب بھی ملیں ان کو  زندہ یہ مردہ حالت میں گرفتار کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ کیس کا 270صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔عدالت نے حکم دیا کہ 264 جابحق ہونے والے افراد کے  مقتولین کے ورثا کواد کو 2 , 2 لاکھ روپے دیئے جائیں ۔عدالت نے مجرم عبدالرحمان اور زبیر چریا کو بھتہ خوری میں الزم 10 ، 10 سال قید اور 1 , 1   لاکھ  جرمانہ عائد کیا ۔ملزمان شارخ، علی محمد ،فضل محمد، ارشد محمود کو زبیر چریا اور رحمان بھولا کو سہولت فراہم کرنے الزم میں 264 مرتبہ عمر قید سنا ئی گئی ۔چاروں ملزمان پر ہر جانے کے عوض 2,2 لاکھ جرمانہ بھی عائدکیا گیا ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سہولت کاری فراہم کرنے والے چاروں  ملزمان نے مرکزی ملزمان جنہوں نے پلاسٹک کے شاپر میں کیمیل کے ساتھ فیکٹری میں داخل ہونے میں مدد کی ،اس کیمیکل کے استعمال سے 264 جانوں کا نقصان ہوا ۔ملزمان  لواحیقین کو 27,27لاکھ دیت ادا کریں گے ۔عدالت نے ضمانت پر رہا ملزم شاہ رخ ، علی محمد ، فضل محمد اور ارشد محمود کی ضمانت منسوخ  کرتے ہوئے جیل بھجنے کا حکم دیا ۔تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ رؤف صدیقی ، حسن قادری ، ڈاکٹر عبدالستار اور ادیب خانم کے خلاف استغاثہ جرم ثابت نہیں کر سکالہذا چاروں ملزمان کو عدم ثبوت کے بنا پر رہا کیا جاتا ہے۔عدالت نے کیس کے مفرور ملزم حماد صدیقی اور علی حسن قادری کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ۔مفرور ملزمان جب بھی ملیں ان کو  زندہ یہ مردہ حالت میں گرفتار کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…