سانحہ بلدیہ ٹائون ، عدالت نے کس اہم  ملزم کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا 

  منگل‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2020  |  23:42

کراچی (این این آئی)انسداد دہشتگردی عدالت  نے سانحہ بلدیہ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے ۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ رحمان بھولا اور زبیر چریا کو264 افراد کے قتل میں 264مرتبہ سزائے موت دی جائے۔مجرموں پر60 لوگوں کو زخمی کرنے کے جرم 10 ،10 سال قید اور 1 , 1 لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا جبکہ کیس کے مفرور ملزم حماد صدیقی اور علی حسن قادری کےدائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ۔عدالت نے حکم دیا کہ مفرور ملزمان جب بھی ملیں ان کو  زندہ یہ مردہ حالت میں گرفتار کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق انسداد


انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ کیس کا 270صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔عدالت نے حکم دیا کہ 264 جابحق ہونے والے افراد کے  مقتولین کے ورثا کواد کو 2 , 2 لاکھ روپے دیئے جائیں ۔عدالت نے مجرم عبدالرحمان اور زبیر چریا کو بھتہ خوری میں الزم 10 ، 10 سال قید اور 1 , 1   لاکھ  جرمانہ عائد کیا ۔ملزمان شارخ، علی محمد ،فضل محمد، ارشد محمود کو زبیر چریا اور رحمان بھولا کو سہولت فراہم کرنے الزم میں 264 مرتبہ عمر قید سنا ئی گئی ۔چاروں ملزمان پر ہر جانے کے عوض 2, 2 لاکھ جرمانہ بھی عائدکیا گیا ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سہولت کاری فراہم کرنے والے چاروں  ملزمان نے مرکزی ملزمان جنہوں نے پلاسٹک کے شاپر میں کیمیل کے ساتھ فیکٹری میں داخل ہونے میں مدد کی ،اس کیمیکل کے استعمال سے 264 جانوں کا نقصان ہوا ۔ملزمان  لواحیقین کو 27, 27لاکھ دیت ادا کریں گے ۔عدالت نے ضمانت پر رہا ملزم شاہ رخ ، علی محمد ، فضل محمد اور ارشد محمود کی ضمانت منسوخ  کرتے ہوئے جیل بھجنے کا حکم دیا ۔تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ رؤف صدیقی ، حسن قادری ، ڈاکٹر عبدالستار اور ادیب خانم کے خلاف استغاثہ جرم ثابت نہیں کر سکالہذا چاروں ملزمان کو عدم ثبوت کے بنا پر رہا کیا جاتا ہے۔عدالت نے کیس کے مفرور ملزم حماد صدیقی اور علی حسن قادری کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ۔مفرور ملزمان جب بھی ملیں ان کو  زندہ یہ مردہ حالت میں گرفتار کیا جائے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎