محافظ ہی لٹیرے بن گئے 15پر کال کرکے مدد مانگنے والی لڑکی کی پولیس افسر کے ہاتھوں آبروریزی

  پیر‬‮ 21 ستمبر‬‮ 2020  |  15:06

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لڑکی کوون فائیوپر کال کرنا مہنگا پڑ گیا،پولیس اہلکار کی تفتیش کے بہانے 23 سالہ لڑکی کی آبروریزی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ میں 15 پر داد رسی کے لیے کال کرنے والی لڑکی کو تھانے بلا کر انکوائری کے بہانےاے ایس آئی نے نہ صرف ا س کو نشانہ بنا ڈالا بلکہ لڑکی کا موبائل نمبر بھی دیگر اہلکاروں میں بانٹ دیا جو لڑکی کو بار بار تنگ کرتے رہے۔ متاثرہ لڑکی نے انکوائری آفیسر کے خلاف سی پی او گوجرانوالہ کو درخواست جمع کرا دی ہے جس پر سی پی او رائے بابر نے ایس پی


صدر اور ایس پی سول لائن کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ تھانے اروپ علاقے میں اوباش افراد نے جھگڑے کے دوران کپڑے پھاڑ دئیے جس پر میں نے 15 پر مدد کے لیے کال کی تھی اور پھر مجھے تفتیش کے بہانے بلا کر اے ایس آئی مبشر نے مبینہ طور پر نشانہ بنایا۔جب کہ پولیس کے متعدد افسران پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔،متاثرہ لڑکی کے اہلخانہ کو راضی نامہ کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔مدعی رفیق کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیاگیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎