جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

رشتے والی خاتون سے ملکر گھنائونا کھیل 22سالہ لڑکی کی مسلسل 25روز آبروریزی ملزم سڑک پر چھوڑ کربیرون ملک فرار ،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 19  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) پنڈادنخان کی 22 سالہ حوا کی بیٹی کو 25 روز مسلسل نشانہ بنائے جانے کے بعد اسے سڑک پر چھوڑ د یا گیا ،ملزم بیرون ملک فرار ہوگیا۔ چونتری کے رہائشی فضل صابر نامی شخص نے غزالہ نامی رشتے کرانیوالی خاتون سے مل کر پنڈادانخان کی صوفیہ اقبال سے شادی کا ڈھونگ رچایا ۔

فضل صابر اور غزالہ کے گھر والوں کی موجودگی میں اگست میں نکاح بھی پڑھایا گیا ۔ فضل صابر شادی کے بعد محمد صوفیہ اقبال جو کہ پہلے سے 4 سالہ بچی کی ماں اور مطلقہ ہے ،کو اپنے ڈیرہ پر لے گیا اور 25 دن تک لگاتار نوچنے کے بعد بغیر بتائے سڑک پر چھوڑ کر غائب ہو گیا ۔ صوفیہ اقبال گھر سے بے گھر ہونے پر فضل صابر کے رشتہ داروں اور رشتہ کرانے والی غزالہ نامی خاتون کے پاس پہنچی تو حقیقت واضح ہوئی کہ نکاح کے سب کردار فرضی تھے ۔ نہ تو اس کا نکاح نامہ کہیں رجسٹرڈ کرایا گیا ہے اور نہ ہی نکاح کرانے والا مولوی رجسٹرد نکاح خواہاں ہے ۔ صوفیہ اقبال کی طرف سے فضل صابر کے دوستوں کے گھر پہنچنے پر فضل صابر نے اپنے دوستوں کے ذریعے صوفیہ اقبال کو پیغام پہنچایا کہ اس کو اطلاع دے دی گئی ہے ۔ زمانہ کی ستائی اپنے ساتھ ہونیوالی ظلم کی داستان لے کے تھانہ نصیر آباد پہنچ گئی ۔ پولیس کی طرف سے فراڈ اور دھوکہ دہی کے مذکورہ کرداروں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تو

پتہ چلا فضل صابر 2 ماہ قبل دوبئی سے چھٹی گزارنے پاکستان آیا تھا اس دوران اس نے صوفیہ اقبال سے شادی والا ڈرامہ رچایا اور چھٹی پوری ہونے پر حوا کی بیٹی کو سڑک پر چھوڑ کر فرار ہو گیا ۔ آن لائن کی طرف سے رابطہ کرنے پر تھانہ نصیر آباد کے سب انسپکٹر ظفراﷲ نے

بتایا کہ پولیس نے صوفیہ اقبال کی درخواست پر تحقیق کی تو غزالہ اور فضل صابر سمیت دیگر تمام افراد فراڈئیے پائے گئے ہیں ۔ فضل صابر کے دو دوستوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔ غزالہ سمیت فضل صابر کے اہلخانہ کو شامل تفتیش کر کے مظلومہ صوفیہ اقبال کی داد رسی کی جائے گی ۔

دوسری طرف فضل صابر سے اس کے دوبئی کے نمبر 0971-547745999 پر مسلسل رابطہ کرنے کے باوجود فضل صابر کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ۔ وہ یا ان کے اہلخانہ اس باابت اپنا موقف دینا چاہیں تو میڈیا بخوشی شائع کرے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…