اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

قانون توہینِ رسالتؐ کیساتھ صحابہ و اہلبیت علیہم الرضوان کی حرمت کے قانون کا بھی مکمل نفاذ کیا جائے،مفتی منیب الرحمان کا مطالبہ

datetime 19  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) انجمن طلبہ اسلام پاکستان کے وفد سے ملاقات کے موقع پر مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب نے کہا کہ ہم کسی کو بھی شعائر اسلام، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کی شان میں گستاخی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں، ہم بدلتے حالات کا بھرپور تدارک کریں گے، علماء و عوام اس عنوان پر متحد و متفق ہیں،مفتی صاحب نے انجمن کی کاوشوں ، طلبہ کو

بہتر تربیتی ماحول فراہم کرنے۔ طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی راہنمائی پر انجمن کی باون سالہ خدمات پر سراہا۔اس موقع پر انجمن طلبہ اسلام پاکستان کے وفد نے مرکزی صدر عبدالسلام اعوان کی صدارت میں علماء اور عوام کو متحد اور متفق رکھنے, ناموس رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم), عظمت صحابہ و محبت اہلبیت کی خاطر تمام مسلمانوں کو متحد کرنے پر مفتی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں پھولوں کا تحفہ پیش کیا،عبدالسلام اعوان نے عصمت دری کے حالیہ واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں جو بیج ڈالا گیا ہے اب اسی کی فصل کاٹی جارہی ہے،فحاشی و عریانی عصمت دری و بے راہ روی کو جنم دیتی ہے۔مفتی صاحب اس حوالے سے بھی قوم کی رہنمائی کریں، اداروں کی غفلت سے بڑے سانحہ جنم لیتے ہیں، ہرمسئلے کی تدبیر اور حل سے متعلق رہنمائی قرآن و سنت میں موجود ہے۔ ضرورت اس پر عمل درآمد کرنے کی ہے، قوم کی رہنمائی مسجد و مدرسے سے ہی ہو سکتی ہے ورنہ ایوان قتدار اور اپوزیشن میں لبرل و سیکولر طبقہ شراب و شباب کا رسیا ہے، جیسے حکمران ایوان قومی اسمبلی و سینیٹ کا حصہ بن رہے ہیں ویسے ہی واقعات معاشرے میں جنم لے رہے ہیں،مرکزی صدر عبدالسلام اعوان کی سکھر سے خصوصی آمد کے موقع پر وفد میں مرکزی جوائنٹ سیکریٹری نبیل مصطفائی,صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالغنی شا ہ زیب و جوائنٹ سیکرٹری بابر مصطفائی بھی ہمراہ تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…