سانحہ لاہور موٹر وے کے بعد ایک اورسانحہ ہوتے ہوتے رہ گیا، موٹر وے پولیس نے گاڑی کا پیچھا کرکے اغوا شدہ خاتون بازیاب کرا لی

  جمعہ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2020  |  18:24

سرگودھا(این این آئی)پاکستان کی قومی شاہراہ موٹروے پر ٹیکسی کار سے مدد کی پکار سن کر پولیس نے خاتون کو بچوں سمیت ٹیکسی کار سے برآمد کر کے دونوں اغواء کاروں کو گرفتار کر کے مندرہ پولیس کے حوالے کر دیاجو مصروف تفتیش ہے۔ذرائع کے مطابقاغواء کار گینگ کے دو ارکان نے خاتون کو تین بچوں سمیت اغواء کیا اور ان کو ٹیکسی کار کے ذریعے موٹروے کے راستے علاقہ غیر لے جایا جا رہا تھا کہ قومی شاہراہ موٹروے پر چلتی ٹیکسی کار سے موقع ملتے ہی مندرہ کے قریب خاتون اور اس کے بچوں نے مدد کی پکار


کے لئے شور مچا دیا جسے سن کر موٹروے پولیس نے ٹیکسی کار کا تعاقب کر کے مغویہ خاتون اور تین بچوں کو برآمد کر کے ٹیکسی کار کے دونوں اغواء کاروں کو حراست میں لے کر تھانہ مندرہ پولیس کے حوالے کر دیا جس میں معلوم ہوا کہ ٹیکسی کار میں سوار اغواء کاروں سہیل ادریس اورشہزاد کی جامعہ تلاشی پر ان کے قبضہ سے 30بور پستول برآمد کر لیا جبکہ آبدیدہ خاتون اور بچوں نے موٹروے پولیس کے فوری اقدام پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔اس طرح موٹر وے پولیس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور سانحہ لاہور موٹروے ہونے سے بچا لیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎