جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

’’کیا اس متاثرہ خاتون نے تم سے یہی الفاظ نہیں کہے تھے ‘‘ خدا کیلئے ہمیں چھوڑ دو ، ملزم شفقت کی عدالت میں منت ترلے کرنے پر سوشل میڈیا صارفین بھڑک اٹھے ، کھری کھری سنادیں ‎

datetime 15  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) موٹروے کیس میں مرکزی ملزم عابد مہلی کو تاحال پولیس گرفتار کرنے میں ناکام ہے ۔جبکہ اس کے ساتھی شفقت حسین کا آج جسمانی ریمانڈ لے لیا گیا ہے ۔ عدالت میں ملزم شفقت حسین نے جج سے منت ترلے شروع کر دیے اس چھوڑ دیا جائے وہ آئندہ ایسا کام نہیں کرے گا ۔ ملزم کی عدالت میں منت ترلے پر سوشل میڈیا صارفین شدید غصے میں آگئے ، صارفین کا کہنا تھا کہ

اس شخص کو دیکھیں اسے شرم نہیں آرہی کیسے معافی کی اپیل کر رہا ہے، کیا اسے یاد نہیں جب ویران سڑک پر ایک کمزور خاتون اپنے تین بچوں کیساتھ ان سے یہی الفاظ بار بار کہتی رہی خدا کیلئے آپ کو جو چیز چاہیے وہ لے لو ، زیور سونا، جتنے پیسے چاہیے وہ منگوا دیتی ہوں لیکن ہم پر رحم کرو ہمیں چھوڑدو ، صارفین کا مزید کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو معافی نہیں بلکہ سرعام پھانسی دی جائے ، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو آئندہ نسلوں کیلئے عبرتناک بنا دیا جائے تاکہ کوئی بھی ایسا شرمناک فعل اختیار کرنے سے پہلے خوف سے لرز جائے۔قبل ازیں موٹروے کیس میں ملزم شفقت حسین کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیاجبکہ مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرلی گئیں ۔ موٹروے کیس میں ملزم شفقت کو چہرے پر کپڑا ڈھانپ کر سخت سکیورٹی میں ایڈیشنل سیشن جج مصباح خان کی عدالت میں پیش کیا گیا ، ملزم شفقت کو اے ٹی سی میں جج نہ ہونے پرسیشن کورٹ میں پیش کیاگیا، پولیس نے عدالت سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔جس پر عدالت نے ملزم شفقت کا6روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا جبکہ کیس میں پولیس نے دہشتگردی کی دفعات شامل کرلیں۔ملزم شفقت کی پیشی کے موقع پر سیشن کورٹ میں سخت حفاظتی انتظامامت کئے گئے تھے۔نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق سماعت کے دوران عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ تم نے کچھ کہنا ہے جس پر ملزم نے کہا بس جی مہربانی کر دیں،عدالت نے پوچھا کیا مہربانی کریں جس پر ملزم شفقت حسین نے عدالت میں استدعا کہ مجھے چھوڑ دیا جائے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ تمہارا ڈی این اے میچ کر گیا ہے اگر کچھ نہیں کیا تو چھوٹ جا ئوگے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…