’’کیا اس متاثرہ خاتون نے تم سے یہی الفاظ نہیں کہے تھے ‘‘ خدا کیلئے ہمیں چھوڑ دو ، ملزم شفقت کی عدالت میں منت ترلے کرنے پر سوشل میڈیا صارفین بھڑک اٹھے ، کھری کھری سنادیں ‎

  منگل‬‮ 15 ستمبر‬‮ 2020  |  19:19

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) موٹروے کیس میں مرکزی ملزم عابد مہلی کو تاحال پولیس گرفتار کرنے میں ناکام ہے ۔جبکہ اس کے ساتھی شفقت حسین کا آج جسمانی ریمانڈ لے لیا گیا ہے ۔ عدالت میں ملزم شفقت حسین نے جج سے منت ترلے شروع کر دیے اس چھوڑ دیا جائے وہ آئندہ ایسا کام نہیں کرے گا ۔ ملزم کی عدالت میں منت ترلے پر سوشل میڈیا صارفین شدید غصے میں آگئے ، صارفین کا کہنا تھا کہ اس شخص کو دیکھیں اسے شرم نہیں آرہی کیسے معافی کی اپیل کر رہا ہے، کیا اسے یاد نہیں جب ویران سڑک پر


ایک کمزور خاتون اپنے تین بچوں کیساتھ ان سے یہی الفاظ بار بار کہتی رہی خدا کیلئے آپ کو جو چیز چاہیے وہ لے لو ، زیور سونا، جتنے پیسے چاہیے وہ منگوا دیتی ہوں لیکن ہم پر رحم کرو ہمیں چھوڑدو ، صارفین کا مزید کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو معافی نہیں بلکہ سرعام پھانسی دی جائے ، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو آئندہ نسلوں کیلئے عبرتناک بنا دیا جائے تاکہ کوئی بھی ایسا شرمناک فعل اختیار کرنے سے پہلے خوف سے لرز جائے۔قبل ازیں موٹروے کیس میں ملزم شفقت حسین کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیاجبکہ مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرلی گئیں ۔ موٹروے کیس میں ملزم شفقت کو چہرے پر کپڑا ڈھانپ کر سخت سکیورٹی میں ایڈیشنل سیشن جج مصباح خان کی عدالت میں پیش کیا گیا ، ملزم شفقت کو اے ٹی سی میں جج نہ ہونے پرسیشن کورٹ میں پیش کیاگیا، پولیس نے عدالت سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔جس پر عدالت نے ملزم شفقت کا6روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا جبکہ کیس میں پولیس نے دہشتگردی کی دفعات شامل کرلیں۔ملزم شفقت کی پیشی کے موقع پر سیشن کورٹ میں سخت حفاظتی انتظامامت کئے گئے تھے۔نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق سماعت کے دوران عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ تم نے کچھ کہنا ہے جس پر ملزم نے کہا بس جی مہربانی کر دیں،عدالت نے پوچھا کیا مہربانی کریں جس پر ملزم شفقت حسین نے عدالت میں استدعا کہ مجھے چھوڑ دیا جائے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ تمہارا ڈی این اے میچ کر گیا ہے اگر کچھ نہیں کیا تو چھوٹ جا ئوگے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎