منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

شدید بارشوں سے سی پیک کے نام سے معروف شاہراہ کا ایک سو کلومیٹر تک حصہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2020 |

خضدار( این این آئی) خضدار ٹو رتوڈیروروڈ سی پیک شاہراہ کے نام سے متعارف ہے، تاہم اس شاہراہ پر سفر کرنا جان ہتھیلی پر رکھنے کے مترادف اور جان جوکھوں والا کام بن چکا۔تودہ گرنا اور روڈ کا ٹوٹ جانا عام سی بات ہے، یہاں ایک سو کلومیٹر تک سی پیک شاہراہ صفحہ

ہستی سے مٹ چکی ہے۔ 2003سے تعمیراتی آغاز لینے والی شاہراہ 2018یعنی پندرہ سال میں جاکر مکمل ہوچکی ہے،قومی خزانے سے اربوں روپے اس شاہراہ پر خرچ ہوئے اب نتیجہ یہ ہے کہ جس شاہراہ کو سی پیک کا نام دیاجارہاہے اسے ایک لنک روڈ کا نام دینا بھی عیب دار محسوس ہوتی ہے۔ خضدار رتوڈیرو شاہراہ کو بنانے اور اس کی نگرانی کرنے اور اس کے لئے فنڈز ریلیز اور وصول کرنے والے انجینئرز، پروجیکٹ ڈائریکٹرز، محکمہ این ایچ اے اور ان کے رجسٹرڈ کنسٹریکشن فرمز کو ہی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بلوچستان کے لئے شاہراہ تعمیر کی ہے یا کوئی آثارِ قدیمہ دریافت کرلیا ہے۔نہ شاہراہ کی کوئی ساخت ہے، نہ شاہراہ کا پل و لک موجود ہے۔حالیہ بارشوں سے خضدار رتوڈیرو شاہراہ کا ایک سو کلومیٹر حصہ ختم ہوچکا ہے۔ جب کہ گزشتہ تین روز سے ونگو مارکو کے علاقے میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے روڈ مکمل طور پر بند ہوچکا ہے،مسافربڑی تعداد میں بے یار و مدد گار پڑے ہیں،جن میں خواتین بچے اور ضعیف و مریض افراد شامل ہیں اور وہ رْل رہے ہیں وہاں سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہیں نہ وہ بلوچستان میں داخل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی سندھ میں،سبزئی سپلائی کرنے والے افراد نے اپنی سبزیاں خراب ہونے پر وہی ضائع کردی ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…