اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر کالم نگار سلیم صافی اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کے سرپرستوں کے شوروغوغا سے ہی ایک وزیراعظم ایک دوست ملک کا اقامہ رکھنے کی وجہ سے نااہل ہوئے ہیں لیکن اب خان صاحب کی
اپنی کابینہامریکہ اور برطانیہ کی شہریت کے حامل لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ ضد ملاحظہ کیجئے کہ اس دوران کابینہ نے غیرملکی شہریت رکھنے والوںکو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا لیکن اپوزیشن خاموش ہے کیونکہ نون لیگ کو نواز شریف کی واپسی کے قضیے میں الجھا دیا گیا اور پیپلز پارٹی کو اس کی دکھتی رگ سندھ میں۔ وزیراعظم اعلان کررہے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل چین سے وابستہ ہے لیکن اقتدار کے ایوانوں کو امریکہ اور برطانیہ کے شہریوں سے یا پھر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندوں سے بھرا جارہا ہے لیکن اپوزیشن میں اتنی سکت نہیں کہ ملکی سلامتی اور مستقبل کے ساتھ اس کھلواڑ کو ایشو بنا سکے۔سچ تو یہ ہے کہ موجودہ اپوزیشن کو اپوزیشن کہنا بھی اس لفظ کی توہین ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں نے اپنی اپنی دکھتی رگ دکھا دی ہے اور اب جب وہ ہلنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی ان دکھتی رگوں کو چھیڑا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی دکھتی رگ قیادت کے کیسز اور سندھ حکومت ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی دکھتی رگ گڈکاپ اور بیڈ کاپ یا ڈبل گیم کی سیاست اور شریف خاندان کے کیسز ہیں۔



















































