اتوار‬‮ ، 10 مئی‬‮‬‮ 2026 

سوئی ناردرن گیس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرزاربوں کے ڈیفالٹرز نکلے، کرپشن بدعنوانی اور مالی بدانتظامی کا ایک نیا سکینڈل، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 9  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وزارت پٹرولیم کی ذیلی کمپنی سوئی ناردرن گیس کمپنی لمٹیڈ میں اربوں روپے کی کرپشن بدعنوانی اور مالی بدانتظامی کا ایک نیا سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق نواز شریف دور حکومت میں سوئی ناردرن گیس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 7ارب روپے کی گیس استعمال کر کے ادائیگی بھی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کمپنی ان ڈائریکٹرز

سے 7ارب روپے کی ریکعری کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ سوئی ناردرن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پرائیوینٹ ممبران نے اپنی سی این جی اسٹیشن، پاورکمپنی، فرٹیلائزر کمپنیاں اور کیمیکل ملوں میں 7ارب روپے کی گیس استعمال کر کے کمپنی کو ادائیگی نہیں کی ہے اور کمپنی ان طاقتور ممبران سے 7ارب روپے وصول کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ وزارت پٹرولیم کے دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے قانون کے مطابق وہ افراد کمپنی کے بورڈ ممبران نہیں بن سکتے جن کے کاروبار یا ملیں کمپنی سے گیس خریدتی ہیں کیونکہ اس سے مفادات کا ٹکراؤ ایک یقینی بات ہے لیکن نواز شریف دور میں کمپنی کے تمام ممبران وہ سیلیکٹ کئے گئے تھے جن کے کاروبار سوئی ناردرن سے منسلک تھے اور پھر ان ممبران نے 7ارب روپے کی گیس استعمال کر کے کمپنی کو ادائیگی بھی نہیں کی۔ دستاویزات کے مطابق سات ارب روپے سے زائد کی گیس ہضم کرنے والوں میں مصباح الرحمان، منظور احمد، نثار احمد، عارف حبیب، مرزا محمد عقیل، علم دین بلو، رضا منشاء، خالد منور وغیرہ پرائیویٹ لوگ تھے جو نواز شریف دور میں ایس این جی پی ایل کے بورڈز کے ممبرز تھے اور 7ارب روپے کی گیس ہضم کر چکے ہیں۔ یہ گیس ان ممبران کی ملوں، سی این جی اسٹیشن اور پاور کمپنی، فرٹیلائزر کمپنیوں کو دی تھی۔ جس کے بل بھی ادا نہیں کئے گئے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیرمین مصباح الرحمان تھے

جو لاہور کے مشہور انڈسٹریل ہیں ان کے کاروبار میں پاپولر کیمیکل مل ہے جو گیس سوئی ناردرن سے حاصل کرتی تھی۔ بورڈ کے ممبر منظور احمد تھے نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے چئیرمین تھے، نثار احمد اے کے ڈی کیپیٹل اور اے کے ڈی فارم کے مالک تھے جو گیس سوئی ناردرن سے لیتے تھے۔ بورڈز کے ممبر مرزا محمد عقیل تھے جن کے لاہور اور دیگر شہروں میں سی این جی اسٹیشنز

تھے اس کے علاوہ جیرالڈ پاور لمٹیڈ کمپنی بھی ان کی ملکیت میں ہے۔ لاہور کے سٹی سی این جی اسٹیشن کی چین بھی ان کی ملکیتی ہے اور گیس سوئی ناردرن سے حاصل کرتے تھے۔ عارف حبیب ملک مشہور انڈسٹریل ہیں جن کی ملکیتی فرٹیلائزر کمپنی، سچل انرجی کمپنی اور رئیل اسٹیٹ میں کاروبار کرتے ہیں اور سوئی ناردرن سے کاروباری تعلقات استوار کئے تھے اس کے علاوہ ڈی جی

سیمنٹ نشاط پاور کے مالک رضا منشا بھی سوئی ناردرن گیس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر تھے اور ان کاروبار بھی گیس کمپنی سے منسلک ہے۔ خالد منور لاریب انرجی کمپنی، حب پاور کمپنی کے مالک تھے۔ اس کے علاوہ اینگرو فرٹیلائزر بھی ان کے انتظام میں ہے۔ ان کے کاروبار بھی سوئی ناردرن

سے منسلک ہے۔ باقی ممبران میں وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ افسران تھے جو ان طاقتور کاروباری شخصیات کے سامنے آواز بلند کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ ان ممبران کے ایک سال میں سات ارب کی گیس ہضم کی تھی جس پر نیب، ایف آئی اے اور دیگر تحقیقاتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)


سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…