اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ڈاکٹر ماہا علی کیس ، عرفان قریشی کا کیا کردار ہے ؟ میری بیٹی کواس کے  گھر تک پہنچانے کے پیچھے جنید کے کیا مقاصدتھے؟ تہلکہ خیز انکشافات 

datetime 31  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈاکٹر ماہا علی کیس میں نیا موڑ آگیا، والد آصف نےتہلکہ انگیز انکشافات کر دیئے ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ڈاکٹر ماہا کی زندگی کے خاتمے سے متعلق ان کے والد آصف نے کہا ہے جنید میری بیٹی کو دھمکیاں دیتا اور زدو کوب کرتا تھا ، شادی کی خبریں من گھڑت تھیں۔ ان کا کہنا تھاکہ مجھے میری چھوٹی بیٹی نے ڈاکٹر ماہا کی موت کے بعد

معاملات سے آگا ہ کیا ۔ جنید کی چھوٹی بہن مہوش کی میری بیٹی ماہا کیساتھ دوستی تھی جس نے جنید کیساتھ ملاقات کروائی ۔ جنیدمیری بیٹی ماہا کو اپنے ایک قریبی دوست عرفان قریشی کے گھر لے کر گیا ، وہاںپر اسے نشے کی لت لگائی گئی ۔ وہاں پر ان کا ایک گروہ لڑکیوں کو ورغلاتا ہے اور انہیں نشے کی عادت میں مبتلا کرتا ہے ۔ دوسری جانب ڈاکٹر ماہا کے دوست جنید کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہا کے والد آصف سے پوچھا جائے کہ ان کی بیٹی کے پاس قیمتی آئی فون کہاں سے آیا۔ جب فون اس کے پاس آیا تو ماہا کی جاب بھی نہیں تھی۔جنید نے کہا کہ ماہا کی جاب چار ماہ پہلے سے شروع ہوئی تھی۔ جنید نے اہم سوال اٹھایا کہ جو شخص کسی کو مارتا ہے یا برا سلوک کرتا ہے تو اس سے ایک دن پہلے تک کوئی بات نہیں کی جاتی۔ ماہا زندگی کا خاتمہ کرنے سے ایک دن قبل مجھ سے بالکل ٹھیک بات کر رہی تھی، ہم دونوں کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ جنید نے انکشاف کیا کہ ماہا نے کبھی تابش نامی نوجوان کا ذکر نہیں کیا۔ ان دونوں کے تعلق کے بارے میں مجھے ماہا کے بھائی نے بتایا۔ جنید نے کہا کہ ماہا کا کہنا تھا کہ میری والد سے پراپرٹی کے معاملے پر لڑائی چل رہی ہے۔ جنید کا کہناہے کہ ماہا کے بھائی نے اسے اس واقعہ کے بارے میں بتایا جیسے ہی مجھے پتہ چلا میں فوراً ہسپتال پہنچ گیا، میں پوری رات ان کے ساتھ رہا۔ جنید نے بتایا کہ میں نے ڈاکٹر ماہا کے والد کو کہا کہ بلیڈنگ ہو رہی ہے اس لئے چھیپا سے غسل کرا لیتے ہیں، جنید نے کہا کہ ایمبولینس سے لے کر کفن تک سارے اخراجات میں نے اٹھائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…