پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان سو ارب ڈالر کے جرمانے سے بچ گیا، پاکستان کے کن تین سپوتوں نے ’کارکے‘ کی بد عنوانی پکڑی ،جب معاملہ عالمی عدالت تک پہنچا تو ہم نے کیسے طیب اردوان کی محبت میں الزام خود پر لے لیا ؟‎بڑے انکشافات

datetime 21  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار رئوف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔ حالانکہ چودہ اگست کو تین سول اور ملٹری افسران کو پاکستان کے اعلیٰ اعزازات دیے گئے ہیں کہ انہوں نے کارکے سکینڈل میں مالی بدعنوانی پکڑ کر پاکستان کی خدمت کی‘ جس کی وجہ سے پاکستان سو ارب ڈالر کے جرمانے سے بچ گیا ۔ ان تین افسروں کی کمیٹی وزیراعظم نواز شریف نے

قائم کی تھی عمران خان نے نہیں ۔ نواز شریف کی بنائی ہوئی اس کمیٹی میں نیب افسران کے علاوہ آئی ایس آئی کے ایک اعلیٰ افسر بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے دو تین برس لگا کر ترکی کی کمپنی کی بدعنوانی پکڑی کہ کیسے انہوں نے مالی بدعنوانی سے پاکستان میں کنٹریکٹ لیا تھا۔ عالمی عدالت کے رولز ہیں کہ اگر آپ نے بدعنوانی یا غلط طریقوں سے کنٹریکٹ لیا ہو تو جرمانہ ختم ہوجاتا ہے اور آپ بلیک لسٹ بھی ہوسکتے ہیں۔ اب مجھے بتائیں طیب اردوان کی وجہ سے وہ پیسے معاف ہوئے یا پاکستان کے تین سپوتوں کی وجہ سے‘ جنہوں نے کارکے جہاز کی بد عنوانی پکڑ کر عالمی عدالت میں پیش کی؟ جونہی چوری پکڑی گئی ترک دوست دوڑے آئے کہ جناب ہماری کمپنی بلیک لسٹ ہوجائے گی اور ہم دنیا بھر میں بدنام ہوں گے ‘ ہم نے طیب اردوان کی محبت میں سارا الزام خود پر لے لیا اوراُلٹا کہا کہ ترکوں نے پاکستان پر احسان کیا اور یہ تاثر دیا کہ طیب اردوان نے پیسے معاف کروائے ۔اگر ترک بہت سخی تھے اور پیسے معاف کیے تو پھر ان تین افسروں کو کیوں میڈل اور ایک ایک کروڑ روپے نقد انعام دیا گیا کہ انہوں نے کارکے ڈیل میں بدعنوانی پکڑ لی‘ جس سے سوا ارب ڈالر بچ گئے تھے؟اور سنیں ‘ جی آئی ڈی سی سکینڈل میں ریکور ہونے والے چار سو ارب روپے کا کریڈٹ بھی وزیراعظم نے لے لیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…