اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان سو ارب ڈالر کے جرمانے سے بچ گیا، پاکستان کے کن تین سپوتوں نے ’کارکے‘ کی بد عنوانی پکڑی ،جب معاملہ عالمی عدالت تک پہنچا تو ہم نے کیسے طیب اردوان کی محبت میں الزام خود پر لے لیا ؟‎بڑے انکشافات

datetime 21  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار رئوف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔ حالانکہ چودہ اگست کو تین سول اور ملٹری افسران کو پاکستان کے اعلیٰ اعزازات دیے گئے ہیں کہ انہوں نے کارکے سکینڈل میں مالی بدعنوانی پکڑ کر پاکستان کی خدمت کی‘ جس کی وجہ سے پاکستان سو ارب ڈالر کے جرمانے سے بچ گیا ۔ ان تین افسروں کی کمیٹی وزیراعظم نواز شریف نے

قائم کی تھی عمران خان نے نہیں ۔ نواز شریف کی بنائی ہوئی اس کمیٹی میں نیب افسران کے علاوہ آئی ایس آئی کے ایک اعلیٰ افسر بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے دو تین برس لگا کر ترکی کی کمپنی کی بدعنوانی پکڑی کہ کیسے انہوں نے مالی بدعنوانی سے پاکستان میں کنٹریکٹ لیا تھا۔ عالمی عدالت کے رولز ہیں کہ اگر آپ نے بدعنوانی یا غلط طریقوں سے کنٹریکٹ لیا ہو تو جرمانہ ختم ہوجاتا ہے اور آپ بلیک لسٹ بھی ہوسکتے ہیں۔ اب مجھے بتائیں طیب اردوان کی وجہ سے وہ پیسے معاف ہوئے یا پاکستان کے تین سپوتوں کی وجہ سے‘ جنہوں نے کارکے جہاز کی بد عنوانی پکڑ کر عالمی عدالت میں پیش کی؟ جونہی چوری پکڑی گئی ترک دوست دوڑے آئے کہ جناب ہماری کمپنی بلیک لسٹ ہوجائے گی اور ہم دنیا بھر میں بدنام ہوں گے ‘ ہم نے طیب اردوان کی محبت میں سارا الزام خود پر لے لیا اوراُلٹا کہا کہ ترکوں نے پاکستان پر احسان کیا اور یہ تاثر دیا کہ طیب اردوان نے پیسے معاف کروائے ۔اگر ترک بہت سخی تھے اور پیسے معاف کیے تو پھر ان تین افسروں کو کیوں میڈل اور ایک ایک کروڑ روپے نقد انعام دیا گیا کہ انہوں نے کارکے ڈیل میں بدعنوانی پکڑ لی‘ جس سے سوا ارب ڈالر بچ گئے تھے؟اور سنیں ‘ جی آئی ڈی سی سکینڈل میں ریکور ہونے والے چار سو ارب روپے کا کریڈٹ بھی وزیراعظم نے لے لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…