ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس وصولی میں 43 فیصد اضافہ

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے 30 جون 2020 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران تیل کی مصنوعات پر تقریباً 43 فیصد زیادہ پیٹرولیم ٹیکس جمع کیا ہے ،گزشتہ سال کے مقابلہ میں مقامی پیداوار میں 13 فیصد سے 20 فیصد تک اور اہم مصنوعات کی درآمد میں 25 فیصد تک کمی آئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق مالی سال 20-2019 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر

ٹیکس کے ذریعے 294 ارب روپے کی وصولی کی گئی ہے جبکہ مالی سال 2018-19 میں 206 ارب روپے وصول کیے گئے تھے،اس کے علاوہ حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مقامی پیداوار میں بالترتیب 13 فیصد اور 20 فیصد کی کمی کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کے دوران تیل اور گیس کی اہم مصنوعات پر تقریبا 31 فیصد زیادہ آمدنی اکٹھا کی ہے۔وزارت خزانہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2018 میں اسی عرصہ کے 319 ارب روپے کے مقابلے میں سات اہم تیل و گیس کے ٹیکسز سے مجموعی طور پر ریونیو کی وصولی 416 ارب روپے (جولائی 2019 سے جون 2020) تک ہوئی جو 31 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ان ٹیکسز میں گیس انفرااسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی)، گیس ڈیولپمنٹ سرچارج (جی ڈی ایس)، پٹرولیم لیوی، خام تیل پر برقرار رعایت، تیل و گیس پر رائلٹی، خام تیل پر ونڈ فال لیوی اور ایل این جی پر پٹرولیم لیوی شامل ہیں۔اس کے علاوہ وزارت توانائی کے عہدیداروں نے تیل کی مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) سے 360 ارب روپے کی وصولی رپورٹ کی ہے جو گزشتہ سال 220 ارب روپے رہی تھی اور یہ 63 فیصد سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔قدرتی گیس کی فروخت پر لگ بھگ 70 ارب روپے جی ایس ٹی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔چونکہ مالی سال 2019-20 میں صرف ان آٹھ اشیا سے حاصل ہونے والی کل آمدنی تقریبا

850 ارب روپے تھی لہذا تیل اور گیس کا شعبہ ملک کے ٹیکس کے حصول میں واحد سب سے بڑے شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے،ان تخمینوں میں تیل اور گیس کے ذریعہ جمع کیے گئے صوبائی ٹیکس وصولی اور تیل کی مصنوعات میں قدر کے اضافے سے پیدا ہونے والے ٹیکس شامل نہیں ہیں۔مثال کے طور پر بجلی کی پیداوار جو فرنس آئل، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور قدرتی گیس پر لگ بھگ 70 فیصد تک منحصر ہے، صارفین کو ایل این جی کی فروخت پر ہونے والا ٹیکس بھی ان تخمینوں کا حصہ نہیں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…