آئی پی پیز سے طویل مذاکرات کے بعد ہمارا معاہدہ ہوگیا جس سے بجلی سستی ہوگی،وزیراعظم نے قوم  کوخو شخبری سنادی 

  جمعہ‬‮ 14 اگست‬‮ 2020  |  17:51

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے یوم آزادی کے موقع پر پر قوم کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئی پی پیز سے طویل مذاکرات کے بعد ہمارا معاہدہ ہوگیا جس سے بجلی سستی ہوگی،جب اقتدار ملا تو دو بوجھ تھے، ایک ماضی کی حکومتوں کا قرض اور دوسرا بوجھ پاور سیکٹر کا تھا، بجلی مہنگی بن رہی ہے ،اس لئے ہماری صنعت دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کرسکتی،آج معیشت بھی چل رہی ہے اور ملک میں کورونا کے کیسز بھی کم ہوئے اسمیں کوئی شک نہیں کہ ہم منزل پر پہنچ جائیں گے، لوگوں کا اعتماد


آیا ہے، اسٹاک مارکیٹ تیزی سے اوپر بڑھنا شروع ہوگئی ہے، اللہ کا شکر ہے ہماری آمدنی بڑھنا شروع ہوگئی ہے، ساری دنیا میں ایکسپورٹ کو نقصان ہوا مگر ہماری ایکسپورٹ بڑھنا شروع ہوگئی ہے، اب حالات مزید بہتر ہوں گے،ہماری قوم حق خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ ہے، ہم کشمیریوں کو ہر سطح پر ہر طرح کا تعاون فراہم کریں گے، کورونا وائرس مکمل ختم نہیں ہوا ،احتیاط کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور چہرے پر ماسک کا استعمال کریں۔جمعہ کو سرکاری ٹی وی پر قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے عظیم خواب کی تعبیر ہے، وہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں قانون کی بالا دستی ہو۔  انہوںنے کہاکہ سب انسانوںکو برابر کے حقوق حاصل ہوں اور ریاست ان کے حقوق کی ضمانت دے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس سفر کی جانب گامزن ہیں اور جدوجہد کے ذریعے منزل پر پہنچ کر دم لیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں آج قوم کو کورونا وائرس کا مل کر مقابلہ کرنے پر بھی مبارکباد پیش کرتاہوں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے جس طرح کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد کی ہے شاید ہی کسی قوم میں اس طرح کی مثال مل سکے۔  انہوںنے کہاکہ ہمیں خدشہ تھا کہ کورونا وائرس کے باعث ایک طرف لوگ بیماری سے جاں بحق ہوں گے اور دوسری جانب معیشت تباہ حال ہونے کے باعث بھوک سے مریں گے تاہم اللہ تعالیٰ کا خاص شکر اور کرم ہے کہ کورونا کیسز میں بھی کمی آئی ہے اور معیشت بھی بہتری کی جانب گامزن ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ انسان کوشش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کامیابی عطا کرتا ہے۔ وزیراعظم نے عوام پر زور دیا کہ وہ احتیاط کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور چہرے پر ماسک کا استعمال کریں کیونکہ اس وبا سے بچنے کے لئے یہ سب سے ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں قوم کی تیسری مبارک باد معیشت کی صورتحال بہتر ہونے پر دینا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دو سال بہت مشکل میں گزرے،جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو بہت مشکل حالات کا سامنا تھا، ہم نے قرضوں کی قسطیں ادا کرنی تھیں۔  انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس فارن ایکسچینج نہیں تھا اور ہم ڈیفالٹ کررہے تھے۔ انہوںنے کہاکہ اگر ہم خدانخواسہ ڈیفالٹ کر جاتے تو اس کے بہت برے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ ڈیفالٹ کرنے سے ڈالر آنا بند ہو جاتے ہیں اور روپے کی قدر گر جاتی جس سے چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم ڈیفالٹ سے محفوظ ہو کر بہت بری مہنگائی سے بچ گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ عوام کے لئے ابھی بھی مشکل حالات لیکن صورتحال اب بہتر ہو رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سٹاک مارکیٹ ریکارڈ اوپر گئی ہے،لوگوں کا اعتماد بڑھنا شروع ہو گیا ہے، ہماری حکومت نے تعمیراتی شعبے کو وہ مراعات دی ہیں جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیں۔انہوںنے کہاکہ 40 سے زائد صنعتیں تعمیرات کے شعبے سے واستہ ہیں، تعمیرات کو کے شعبے کو مراعات دینے سے ان صنعتوں کی بھی ترقی ہو رہی ہے اور روزگار ملنا شروع ہو گیا ہے اور دولت کی پیداوار بڑھنے سے وصولی بھی بہتر ہو گی جس سے کمزور طبقات پر خرچ کرنے کے لئے حکومت کو رقم دستیاب ہو گی اور ہم قرضوں کی ادائیگی بھی کر سکیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سابق حکومتوں کی پالیسیوں اور معاہدوں کی وجہ سے مہنگی بجلی کے باعث گردشی قرضے بڑھتے جا رہے تھے کیونکہ جس قیمت پر ہم بجلی لے رہے تھے اس سے کم پر صارفین کو فراہم کررہے تھے۔ اس طریقے سے کوئی بھی کاروبار نہیں چل سکتا ۔ ہماری حکومت نے پاور کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کئے اور طویل ملاقات کے بعد ہم ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں جس کی تفصیلات سے متعلقہ حکام جلد عوام کو آگاہ کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بجلی کی پیداواری لاگت کم ہونے کی وجہ سے صنعتوں اور عوام کو فائدہ ہو گا۔ اس کے علاوہ لائن لاسز اور چوری کو کم کرنے کے لئے حکومت اصلاحات کا پیکج لا رہی ہے جس سے چوری بھی کم ہو گی اور بجلی کی قیمت بھی کم کی جائے گی۔ اس سے صنعتوں کو فروغ حاصل ہو گااور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت پر اقتدارسنبھالنے کے بعد سابق حکومتوں کی طرف سے لئے گئے قرضوں کا بہت بڑا بوجھ تھا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے 4 ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کیا جس میں سے 2 ہزار ارب روپے قرضوںکی ادائیگی پر خرچ ہو گیا۔ انہوںنے کہاکہ دوسری جانب ہمارے اوپر پاور سیکٹر کا بہت بڑا بوجھ تھا کیونکہ سابقہ حکومتوں نے بجلی کمپنیوں کے ساتھ ایسے معاہدے کئے ہوئے تھے جن کے ذریعے بہت مہنگی بجلی مل رہی تھی اور ہماری صنعتیں خطے کے دیگر ممالک کی صنعتوں کا مقابلہ مہنگی بجلی کی وجہ سے نہیں کر پا رہی تھیں، اسی لئے ہماری معیشت اوپر نہیں اٹھ رہی تھی۔ دوسری جانب عوام کو بھی مہنگی بجلی مل رہی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب آمدن بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ جولائی میں ہدف سے زائد ٹیکس وصولی ہوئی ہے، اس سے روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے اور یہ بھی بہت بڑی خوشخبری ہے کہ کورونا کے باوجود ہماری برآمدات بڑھنا شروع ہو گئی ہیں جبکہ پوری دنیا کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔انہوںنے کہا کہ سٹاک مارکیٹ کا اوپر جانا، سیمنٹ کی فروخت میں اضافہ، ٹیکس وصولی کا بہتر ہونا خوش آئند ہے،انشاء اللہ حالات مزید بہتر ہوتے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں آج مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے اپنے بھائی اور بہنوں اور بچوں کو پاکستان کی طرف سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پورا پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ ہمیں اس بات کااحساس ہے کہ وہ کس طرح بھارتی ظلم و جبر اور مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی ہر ممکن سفارتی ، سیاسی اور اخلاقی حمایت اور جدوجہد کرتا رہے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی کشمیریوں کو آزادی دے اور 70 سال پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنے مستقبل کا فیصلہ خودکرنے کا جو حق دینا کا ان سے وعدہ کیا تھا وہ حق ان کو ملے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

“Be Kind To Yourself”

سکواڈرن لیڈر محمد اقبال ائیرفورس کے ریٹائر افسر ہیں‘ جسمانی عمر 73 برس ہے لیکن جذباتی 30 سال سے اوپر نہیں گئی‘ بچے بڑے ہیں اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں‘ اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے‘ یہ انہیں بہت مس کرتے ہیں‘ تین چار سو لطیفے یاد ہیں‘ جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہاں چند منٹوں میں قہقہے ....مزید پڑھئے‎

سکواڈرن لیڈر محمد اقبال ائیرفورس کے ریٹائر افسر ہیں‘ جسمانی عمر 73 برس ہے لیکن جذباتی 30 سال سے اوپر نہیں گئی‘ بچے بڑے ہیں اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں‘ اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے‘ یہ انہیں بہت مس کرتے ہیں‘ تین چار سو لطیفے یاد ہیں‘ جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہاں چند منٹوں میں قہقہے ....مزید پڑھئے‎