مولانا طارق جمیل کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان

  جمعہ‬‮ 14 اگست‬‮ 2020  |  17:36

اسلام آباد( آن لائن )معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کیلئے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعلان کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق یوم آزادی کے موقع پر پاکستان نے مرحوم صادقین احمد فراز،ڈاکٹر جمیل جالبی اور مولانا طارق جمیل سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی 184 شخصیات کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے۔سول ایوارڈز کیتقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی۔24 شخصیات کیلئے ستارہ شجاعت ، 27 کے لیے ستارہ امتیاز اور 44 شخصیات کے لیے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعلان کیا گیا ہے۔سول ایوارڈ اپنے شعبوں میں بہترین خدمات


انجام دینے والے ملکی اور غیر ملکی شخصیات کو دیے جائیں گے۔معروف شاعر احمد فراز اور عظیم صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کے لیے نشان امتیاز کا اعلان کیا گیا ہے ہے۔بشری انصاری اور طلعت حسین کے لئے بھی ستارہ امتیاز کا اعلان کیا گیا ہے۔سکینہ سموں اور نعمت سرحدی کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔مولانا طارق جمیل کیلئے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی کا اعلان کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ مولانا طارق جمیل پاکستان اور پوری دنیا میں ایک مشہور نام ہے۔ انہیں اسلام کی تعلیمات کے وسیع علم کے لئے جانا جاتا ہے۔پوری دنیا کے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں اور اس کی دینی تعلیمات کا احترام کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں مولانا طارق جمیل کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کا اندازہ گفتگو سب سے الگ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے سننے والوں کو اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں جب اپنے ایک بیان کی وجہ سے انہیں ٹی وی شو میں معافی مانگنی پڑی تو ان کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎