پاک سعودی کشیدگی ملک کے مفاد میں نہیں ، نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے ملک خانہ جنگی کا نقشہ پیش کررہا ہے،ہمسایہ ممالک کے ناراض ہونے بارے تہلکہ خیز دعویٰ

  بدھ‬‮ 12 اگست‬‮ 2020  |  23:45

پشاور( آن لائن)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے کہاہے کہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ہمسایہ ممالک کے بعد اب اسلامی ممالک بھی یکے بعد دیگر ناراض ہو رہے ہیں۔پاک سعودی کشیدگی ملک میں مفاد میں نہیں ،حکومت عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بجائے ملک کے مفاد میں فیصلہ کرے۔وہ جمعیت علماء اسلام کے ضلعی نائب امیر قاری احسان الرحمان محسن اور سابق ایم پی اےمولانا اسرار الحق کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے بعد کارکنوں سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا امانت شاہ حقانی،مفتی سلیم حلیمی،مولانا قیصر الدین


اور دیگر بھی موجود تھے۔مولانا عطا ء الرحمان نے کہاکہ نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے ملک خانہ جنگی کا نقشہ پیش کررہا ہے۔سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں اور ان پر پتھراؤ کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔خارجہ اور داخلہ دونوں پالیسیاں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔حکومت نا م کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے لیکن حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے ۔حکومت نے غریب عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔عوام خودکشیاں کررہے ہیں اور سیلکٹیڈصرف وزیر اعظم تقریر کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک کی تاریخ میں ریکارڈ قرضہ لیا گیا اور آئے روز ریکارڈ کرپشن ہورہی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام امید کی آخری کرن ہے اور عوام کے پاس بھی کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے اگر عوام نے ساتھ دیا تو اس ملک کو بحرانوں سے نکال کر دم لیں گے۔  سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے کہاہے کہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ہمسایہ ممالک کے بعد اب اسلامی ممالک بھی یکے بعد دیگر ناراض ہو رہے ہیں۔پاک سعودی کشیدگی ملک میں مفاد میں نہیں ،حکومت عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بجائے ملک کے مفاد میں فیصلہ کرے۔وہ جمعیت علماء اسلام کے ضلعی نائب امیر قاری احسان الرحمان محسن اور سابق ایم پی اے مولانا اسرار الحق کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے بعد کارکنوں سے خطاب کررہے تھے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎