پنجاب میں تعلیمی ادارے کھولنے کیلئے ایس او پیز جاری کیا کیا کرنا ہو گا؟ جانئے

  بدھ‬‮ 12 اگست‬‮ 2020  |  11:41

سرگودھا(این این آئی)حکومت پنجاب نے تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالہ سے ایس او پیز جاری کر دیئے۔ذرائع کے مطابق سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے تعلیمی اداروں کی بحالی کے حوالہ سے ایس او پیز جاری کر دیئے۔ جن میں کہا گیا کہ کورونا وائرس متاثرہ شخص کے کھانسنے،چھینکنے یا بولنے کے دوران خارج ہونیوالے ننھے ذرات سے پھیل سکتا ہے۔اس لئے تعلیمی اداروں میں چیزوں کا مشترکہ استعمال اورسماجی فاصلے کو برقرار نہ رکھنا کورونا وائرس کی وجہ بن سکتا ہے۔ کورونا وائرس کسی بھی عمر کے فرد پر حملہ آور ہوسکتا ہے بچوں اور اساتذہ کے


تحفظ کے لئے خاص احتیاط کرنا ہو گی۔ سکول انتظامیہ سے کہا گیا کہ وہ بلا امتیاز ایسے اسٹاف اور بچوں کو الگ کریں جو کورونا وائرس کا شکار رہ چکے ہوں ۔ بچوں کو احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہ کریں بالخصوص کسی بھی چیز کی سطح کو پکڑنے یا چھونے سے پرہیز کریںسکول میں بچوں کو بار بارہاتھ صابن سے اچھی طرح 40سیکنڈ تک دھونے کی تلقین کریں سکول میں بچوں کو آگاہ کیا جا ئے کہ وہ گھر پہنچنے پردیگر اہلِ خانہ سے میل جول کرنے سے قبل نہائیں ۔بغیر ہاتھ دھوئے آنکھوں،ناک اور منہ کو چھونے سے مکمل پرہیز کریں۔تمام تعلیمی اداروں میں بچوں اور اسٹاف کے لیے ہینڈ سینیٹائزر اور ماسک لازمی رکھا جائے۔کھانسی یا سانس کے مسائل سے دوچار اسٹاف اور بچوں کو مکمل طور پر صحت یاب ہو جانے تک گھر رہنے کی تلقین کریں۔ دوران ِ لیکچر ماسک پہننا لازمی ہے ، ماسک کے درست استعمال کے حوالے سے اساتذہ بچوں کو آگاہ کریں۔ کھانستے یا چھینکتے وقت بچوں کو منہ ٹشو پیپر، رومال یا کہنی سے ڈھانپنے کی تلقین کریں۔ماسک کو بار بار ہاتھ لگانے سے گریز کریں اور گیلا ہونے کی صورت میں کوڑا دان میں ضائع کر دیں۔اور6 فٹ کے سماجی فاصلے کو قائم رکھنے کے لئے سکول کی حدود میں نشانات لگائیں ۔وباء ختم ہو جانے تک تمام سکولوں میں صبح اسمبلی سے مکمل طور پر گریز کیا جا ئے۔کلاس رومز، لائبریری، اسٹاف روم ، لیبارٹری اور دیگر کمروں میں سماجی فاصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے طلباء اور اسٹاف کے بیٹھنے کا انتظام کریں۔داخلی اور خارجی پوائنٹس پرسماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کیلئے اضافی طور پر مانیٹرز کو نگرانی کی ڈیوٹی دیں۔چھٹی کے وقت ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک سے زائد داخلی اور خارجی راستوں کا استعمال کیا جا ئے۔ہاتھ ملانے،بغل گیر ہونے سے مکمل پرہیزکریں اور آپس میں ماسک کا تبادلہ ہرگز نہ کریں ۔چھوٹی جماعتوں کے بچوں کو کھیل کود کی سرگرمیوں میں مشغول نہ کریں ۔تعلیمی اداروں میں تما م انڈور گیم ایریاز ، پلے گراؤنڈز اور جھولے بند رہیں گے۔اسکول انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سکول وین ، بس، رکشہ میں گنجائش کاصرف 50 فیصد حصہ پر کیا جا ئے ہوسٹلز میں صرف کل گنجائش کے 30 فیصد حصے کو پر کیا جا ئے ۔ایسی تمام سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جا ئے جو وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بن سکتی ہیں ہوسٹل کی حدودمیں سماجی فاصلے، صفائی ستھرائی ، احاطے کی ڈس انفیکشن اور برتنوں کی صفائی کا خصوصی خیال رکھا جا ئے۔زیادہ استعمال ہونے والی جگہوں،گیٹ،فرنیچر،بنچیز،ہینڈلز،واش بیسن،ٹوائلٹس کو بار بار صاف اور سینٹائز کیا جائے گا۔صفائی کا عملہ مکمل حفاظی کٹ (گلوز،ایپرن، لانگ بوٹ، ماسک، گوگلز اور ہیڈ کور) کا استعمال لازمی کریں گے۔سکولز کھولنے سے 3ـ5روز قبل تعلیمی اداروں اور ہوسٹلز کی صفائی اور ڈس انفیکشن کو یقینی سکول ،کالج ، یونیورسٹیوں میں داخل ہونے سے پہلے تھرمل ا سکینرسے ٹمپریچر لازمی چیک کیا جائے گا۔تعلیمی اداروں میں تمام ایسی نصابی اور غیر نصابی سر گرمیوں سے گریزکیا جا ئے جو وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بن سکتی ہیں ۔اساتذہ بچو ں اور طلبائ کو گھر سے لنچ لانے کی تلقین کریں ۔ سیکرٹری تعلیمی اداروں میں فرش پر قالین بچھانے کی اجازت نہیں ، تما م کمروں میں وینٹیلیشن کا مناسب انتظام یقینی بنا ئے گا ۔ پک اینڈ ڈراپ کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کی دن میں دو مرتبہ صفائی اور ڈس انفیکشن کو یقینی بنا یا جا ئے۔ تعلیمی اداروں کے تمام داخلی راستوں پرکورونا وائرس سے بچاؤکی احتیاطی تدابیرکی اسٹینڈیزلگائی جائیں گی۔کورونا وائرس کا خطرہ انتہائی احتیاط اور سمجھ داری سے ختم کیا جا سکتا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎