میں نے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، ساتھ جاتا تو مدعا مجھ پر ڈال دیا جاتا، سابق وزیراعظم نواز شریف کے متوالے نے بھانڈا پھوڑ دیا، دھماکہ خیز انکشافات

  منگل‬‮ 11 اگست‬‮ 2020  |  18:10

لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سرگرم کارکن اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے متوالے ایوب بھٹہ نے نیب آفس کے باہر پتھرائو کے حوالے سے بھانڈا پھوڑ دیا۔ ایوب بھٹہ کا کہنا ہے کہ نیب آفس کے باہر جو پتھرائو کیا گیا۔ پتھرائو میں استعمال ہونے والے پتھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی مرزا جاوید سفید رنگ کے شاپروں میں بھر کر ساتھ لے کر گئے تھے جبکہ یہ پتھر ایم پی اے مرزا جاویدکے بیٹے اور ملازموں نے تین سے چار گاڑیوں میں رکھے تھے۔ ایوب بھٹہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ


ایم پی اے مرزا جاوید کی گاڑی مریم نواز کے قافلے کے ساتھ تھی جبکہ جاتے امرا سے روانگی کے وقت ایم پی اے مرزا جاوید نے انہیں اپنے ساتھ گاڑی میں سوار ہونے کے لئے کہا مگر میں نیت بھانپ گیا اور میں نے ایم پی اے کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ ایوب بھٹہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر میں چلا جاتا تو پتھر لے جانے کا سارا مدعا مجھ پر ڈال دیا جانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جاتی امراء سے روانگی کے وقت جاتی امراء کی سکیورٹی میں شاپر بیگ کے بارے میں پوچھا تو مرزا جاوید نے بتایا کہ اس میں گوشت ہے۔ ایوب بھٹہ کا کہنا تھا کہ وہ نواز شریف کا متوالہ ہے ایک پر امن شہری ہے وہ نعرے ضرور لگاتا ہے لیکن کسی کی بے عزتی کرنے کے لئے تیار نہیں۔ واضح رہے کہ (ن) لیگی ایم پی مرزا جاوید رائیونڈ کے حلقہ سے منتخب ہوئے تھے۔  پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سرگرم کارکن اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے متوالے ایوب بھٹہ نے نیب آفس کے باہر پتھرائو کے حوالے سے بھانڈا پھوڑ دیا۔ ایوب بھٹہ کا کہنا ہے کہ نیب آفس کے باہر جو پتھرائو کیا گیا۔ پتھرائو میں استعمال ہونے والے پتھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی مرزا جاوید سفید رنگ کے شاپروں میں بھر کر ساتھ لے کر گئے تھے جبکہ یہ پتھر ایم پی اے مرزا جاوید کے بیٹے اور ملازموں نے تین سے چار گاڑیوں میں رکھے تھے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎