شہری 95 فیصد ٹیکس سندھ اور 65 فیصد وفاق کو دیتے ہیں یہ کہاں جاتا ہے؟وسیم اخترنے استعفے کیلئے حیران کن شرط رکھ دی

  پیر‬‮ 10 اگست‬‮ 2020  |  22:28

کراچی (آن لائن) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کے شہری 95 فیصد ٹیکس سندھ اور 65 فیصد ٹیکس وفاق کو دیتے ہیں یہ ٹیکس کہاں جاتا ہے، کراچی کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے، نالوں کی صفائی کے لئے پورا پاکستان کراچی پہنچ گیا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مجھے یہ گارنٹی دے کہ میرے استعفیٰ دینے سے کراچی کے مسائل حل ہوجائیں گے تو میں استعفیٰ دینے کو تیار ہوں، جن حالات میں کام کر رہا ہوںوہ انتہائی مشکل حالات ہیں ان سے کون پوچھے گا جنہوں نے ایک دن کے اندر میرے


خلاف جعلی کیسز میں 20،20 ایف آئی آر درج کی اور40 ایف آئی آر کے ساتھ روز میئر کی حیثیت سے عدالت میں کھڑا ہوتا ہوں اور مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں، میں گزشتہ چار سال سے پورے پاکستان کے بلدیاتی نمائندوں کو اختیار دینے کی آواز بلند کر رہا ہوں، یہ بات انہوں نے پیر کے روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہونے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، میئر کراچی نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ناراضگی بجا ہے، دس بارہ سالوں میں کراچی کا جو حال ہوا ہے اس پر کوئی بھی درد مند دل ایسے ہی جذبات کا اظہار کرے گا، میئر کراچی نے کہا کہ ہم اپنی مدت پوری کررہے ہیں بلدیاتی الیکشن مستقبل قریب میں نظر نہیں آرہے، انہوں نے کہا کہ جو اختیارات مجھے حاصل ہیں اس طرح کے اختیارات کے ساتھ کوئی بھی میئر آجائے کچھ نہیں کرسکتا، میڈیا کے توسط سے میں چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وہ میری دائر کردہ پیٹشن جس میں قانون شق نمبر 140-A کے تحت اختیارات مانگے گئے ہیں اس کی سماعت کریں تاکہ ملک بھر کے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات مل سکیں،اگر اس پیٹشن کا فیصلہ اب تک ہوجاتا تو آج حالات ایسے نہیں ہوتے، اختیارات نہ ہونے کے سبب اس نظام نے پورے ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، انہوں نے کہا کہ کراچی کا 70 فیصد حصہوفاقی حکومت کے پاس ہے جبکہ 20 فیصد حصے پر سندھ حکومت قابض ہے، میئر کراچی کے پاس کراچی کا 10 فیصد حصہ آتا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی سے تمام اختیارات حکومت سندھ نے لے لئے ہیں، پانی، سیوریج،صفائی ستھرائی، ٹرانسپورٹ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، بلڈنگ کنٹرول، ماسٹر پلان اب کے ایم سی کے پاس نہیں ہیں، نالوں کی صفائی بھی حکومت سندھ نے اپنے ذمے لے لی ہے اور مختلف اتھارٹیز اور ادارےبنا کر اختیارات پر ناجائز قبضے کا عمل جاری ہے، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کی آواز کو کہیں نہیں سنا جا رہا اور نہ ہی اس کے مسائل کے حل کے لئے کوئی ادارہ سنجیدہ نظر آ تا ہے، شہر کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لاوارث شہر بنایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے ریونیو انجن کو فیل کیا گیا اور معاشی حب کو تباہ کیا گیا تو وفاقی اور صوبائی حکومتیں کس طرح چلیں گی، انہوں نے کہا کہ کراچی پر ایسے لوگ مسلط کئےجاتے ہیں جن کا تعلق نہ تو اس شہر سے ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس شہر کے مسائل کو سمجھتے ہیں جب تک مقامی قیادت کو بااختیار بنا کر اس شہر کو اون نہیں کیا جاتا تب تک اس شہر کے مسائل تو دور کی بات بنیادی مسئلے بھی حل نہیں ہوں گے، لوگ پانی کو ترستے رہیں گے، سیوریج اسی طرح سڑکوں پر ابلتا رہے گا، سڑکیں تباہ و برباد رہیں گی، ٹرانسپورٹ کے لئے لوگ دھکے کھاتے رہیں گے اور صحت کی سہولیات بھی ناپید رہیں گی، انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کا کوئی محکمہ پرفارم نہیں کر رہا، اس لئے آج کراچی کا یہ حال ہوگیا ہے اور شہریوں کو لاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم قدم ارطغرل کے مزار پر

عاطف نواز راولپنڈی کی مکہ مارکیٹ میں دوپٹوں کا کام کرتا ہے‘ پندرہ سال کی عمر میں کام شروع کیا اور آہستہ آہستہ اس کام کا ماہر ہوتا چلا گیا‘ پندرہ سال قبل والد جگر کے عارضے کا شکار ہو گیا‘ انہیں ہیپاٹائیٹس سی ہوا اور وائرس آہستہ آہستہ ان کا جگر کھانے لگا‘ عاطف نے یہ 15 ....مزید پڑھئے‎

عاطف نواز راولپنڈی کی مکہ مارکیٹ میں دوپٹوں کا کام کرتا ہے‘ پندرہ سال کی عمر میں کام شروع کیا اور آہستہ آہستہ اس کام کا ماہر ہوتا چلا گیا‘ پندرہ سال قبل والد جگر کے عارضے کا شکار ہو گیا‘ انہیں ہیپاٹائیٹس سی ہوا اور وائرس آہستہ آہستہ ان کا جگر کھانے لگا‘ عاطف نے یہ 15 ....مزید پڑھئے‎