جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

سی پیک گیم چینجر منصوبہ ہے، شہباز شریف چینی سفارتخانے پہنچ گئے، سی پیک منصوبوں پر اہم تبادلہ خیال

datetime 8  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے چین کے سفیر یاو جنگ سے ملا قات کی جس میں سی پیک منصوبوں اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیا ل کیا گیا۔ تفصیلات کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے چین کے سفارتخانے کا دورہ کیا جہا ں انہو ں نے چین کے سفیر یاؤ جنگ سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور سی پیک منصوبوں سے متعلق تبالہ خیال کیا گیا،

شہباز شریف نے کہا کہ سی پیک ’گیم چینجر‘ اور ’فیٹ چینجر‘ منصوبہ ہے جو خطے میں غربت کا خاتمہ کرے گا، دونوں ممالک کی دوستی سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری خطے اور دنیا میں امن واستحکام اور انصاف کے توازن کے لئے اہم ہے افغانستان میں قیام امن کیلئے چین کی دوراندیشی کی پالیسی اور تعاون خوش آئند ہے کورونا وبا سے چین نے مثالی انداز میں جنگ کی، پاکستان کی مدد پر چین کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد معاشی بحالی میں سی پیک اور پاک چین معاشی تعاون کلیدی اہمیت رکھتا ہے خوش قسمتی ہے کہ چین جیسا اچھا ہمسایہ اور بااعتماد دوست پاکستان کو میسر آیا پاکستان اور چین دو بااعتماد سٹرٹیٹجک کوآپریٹو شراکت دار، آئرن برادرز اور امن وترقی کے پیامبر ہیں،صدر شی جن پنگ نے خطے اور عالمی امن کے لئے مثالی انداز اپنایا ہے، چینی عوام کو ایسی قابل قیادت ملنا خوش قسمتی ہے۔ اس موقع پر چین کے سفیر یاو جنگ نے شہبازشریف کی سفارت خانے آمد پر شکریہ ادا کیا اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا چینی سفیر یاؤو جنگ نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی چین اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں روابط میں اضافہ خوش آئند ہے۔انہو ں نے مزید کہا کہ پاکستان چین دوستی، سی پیک اور دونوں ممالک میں تعلقات کے فروغ کے لئے آپ کی کاوشوں کی قدر کرتے ہیں آپ نے غیرمعمولی رفتار سے سی پیک منصوبوں اور پنجاب میں ترقی کے لئے کام کیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں سی پیک پر بہترین رفتار اور جذبے سے کام کیا۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…