بٹگرام، وادی ناران کاغان سیاحوں کی آمد کیلئے کھول دی گئی، سیاحوں کیلئے خوشخبری

  ہفتہ‬‮ 8 اگست‬‮ 2020  |  20:38

بٹگرام(آن لائن) وادی ناران کاغان سیاحوں کی آمد کیلئے کھول دی گئی،ناران کاغان آنے والے سیاح وادی میں کچرا پھیلانے سے گریز کریں بصورت دیگر سخت کاروائی ہوگی ڈائیریکٹر جنرل کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی تفصیلات کے مطابق کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد آصف نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پیش نظر وادی ناران کاغان میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھیجبکہ اب باقاعدہ طور پر ان سیاحتی مقامات کو سیاحوں کی آمد کیلئے کھول دیا گیا ہے انھوں نے کہا کہ قدرت نے وادی کاغان کو بے پناہ حسن سے مالا مال کیا ہے لیکن


اسے اشرف المخلوقات کے غیر ذمہ دارانہ رویوں سے سنگین خطرات لا حق ہیں،ناران جانے والے سیاح حضرات وادی میں کچرہ اور گندگی نہ پھیلائیں انھوں نے مزید کہا کہ کہ حکومت نے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے پلاسٹک کا استعمال ہمارے ماحول کو تباہی سے دو چار کر چکا ہے،اس لیئے پلاسٹک کی اشیاء جیسے خالی بوتلیں وغیرہ ادھر اُدھر پھنکنے کی بجائے اپنی گاڑی میں رکھ کر واپسی پر KDA کے کوڑا دانوں میں ڈالیں ڈی جی KDA کا کہنا تھا کہ انہوں نے علاقے کی بہتر صفائی ستھرائی کے لیئے اضافی سینٹری ورکرز تعینات کیے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر دو شفٹوں میں کچرہ اٹھاتے ہیں لیکن اگر ہزاروں اہلکار بھی تعینات کر دیے جائیں پھر بھی عوام کے تعاون کے بغیر ہم صاف ستھرے ماحول کا مقصد حاصل نہیں کر سکتے انھوں نے سیاحوں سے درخواست کی کہ وہ وادی میں تیز رفتار ڈرائیونگ اور دریا میں نہانے سے گریز کریں اور خود کو دوسرے سیاحوں کے لیے زحمت کا ذریعہ نہ بنائیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎