پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کسی پاکستانی پائلٹ کے پاس جعلی لائسنس نہیں، تصدیق کر دی گئی

datetime 15  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے غیرملکی ائیرلائنز میں ملازمت کرنے والے 96 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کلیئر قرار دے دئیے۔ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سول ایوی ایشن اتھارٹی حسن ناصر جامی نے عمان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیاکہ غیرملکی ائیرلائنز میں موجود 104 میں سے 96 پائلٹس کے لائسنس کلئیر ہیں جب کہ مزید 8 غیرملکی ائیرلائنز میں کام کرنے والے

پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ کلیئر پائلٹس ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، بحرین، ترکش، ویتنام اوردیگرائیرلائنز سے منسلک ہیں۔ڈی جی سی اے اے نے خط میں کہا کہ مجموعی طور پر غیرملکی ائیرلائنز میں 104 پاکستانی پائلٹس کی لائسنس تصدیق مانگی گئی۔ڈی جی نے بتایا کہ سی اے اے سے جاری تمام پائلٹس کے لائسنس مصدقہ اور اصلی ہیں تاہم لائسنس پروسیس کے کمپیوٹر پر ہونے والے امتحانات میں کچھ تضادات ہیں۔خط کے مطابق کمپیوٹر امتحانات میں مشکوک پائلٹس کو گراؤنڈ کرکے جواب طلب کیا ہے اورپائلٹس سے جواب 1994 کے سی اے اے قوانین کے مطابق مانگا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لائسنس سے متعلق خبریں میڈیا اور سوشل میڈیا میں غلط انداز سے پیش کی گئیں۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزارت ہوابازی نے 262 مشکوک پائلٹس کی فہرست جاری کی تھی، اس حوالے سے وفاقی وزیر غلام سرور خان کا قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ 148مشکوک لائسنس کی فہرست پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کو بھجوادی گئی اور انہیں ہوابازی سے روک دیا گیا ہے، دیگر مشکوک لائسنس والے پائلٹس 100 سیزائد ہیں، ان کی تفصیلات بھی سول ایوی ایشن ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہے۔اس اعلان کے بعد ویت نام، ملائیشیا، بحرین اور دیگر ممالک نے پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا اور ان ممالک کی سول ایوی ایشنز نے پاکستانی ایوی ایشن اتھارٹی سے پائلٹس کے لائسنس کی تصدیق کے لیے خط لکھا ہے۔اس کے علاوہ یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی پروازوں پر 6 ماہ کی پابندی عائد کردی ہے۔پاکستانی پائلٹس کے جعلی لائسنس کے معاملے پر امریکا نے بھی پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…