مریم اورنگزیب صاحبہ شور نہ کریں ،اگر آپ شور کریں گے تو مرادسعید کو بلالیں گے، علی محمد خان کا حیرت انگیز جواب

  بدھ‬‮ 15 جولائی‬‮ 2020  |  0:04

اسلام آباد (این این آئی) وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا ہے کہ سیاحتی مقامات کے مقامی افراد کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہوتا،وزیراعظم کو احساس ہے ،سیاحتی مقامات پر کاروباری افراد کو ریلیف پیکیج دینے پر بھی غور کیا جائے گا،سیاحتی مقامات کو ایس او پیز کے تحت کھولنا ہوگا،پی ٹی ڈی سی کے 180 ملازمین کو ایک اعشاریہ آٹھ ارب روپے کا گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے گا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں سیاحتی مقاماتدوبارہ نہ کھولے جانے کیخلاف توجہ دلاؤ نوٹس مسلم لیگ (ن )کے مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیاجس کا جواب دیتے ہوئے


وزیر مملکت علی محمدخان نے کہاکہ کرو نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے،ملک میں سیاحت کی صنعت سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ علی محمد خان نے کہاکہ سیاحتی مقامات کے مقامی افراد کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہوتا،وزیراعظم کو اس بات کا احساس ہے۔ علی محمد خان نے کہاکہ نیشنل ٹورزم بورڈ کے 22 جولائی کے اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ سیاحتی شعبہ کو فوری ریلیف دینے کی ضرورت ہے،دیکھا جائے گا کہ سیاحتی سرگرمیوں کو کس طرح بحال کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ 1.3 ارب کا گولڈن ہینڈ شیک پی ٹی ڈی سی ملازمین کو دینے جارہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بزنس چلانا حکومت کا کام نہیں،عمران خان نے سیاحت کو ہمیشہ سپورٹ کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سیاحتی مقامات پر کاروباری افراد کو ریلیف پیکیج دینے پر بھی غور کیا جائے گا،سیاحتی مقامات کو ایس او پیز کے تحت کھولنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ کورونا کا سب سے زیادہ نقصان ٹورازم کو ہوا ہے،باقی کاروبار پھر بھی گزارا کر رہے ہیں،مگر گلیات، مری، سوات سمیت ٹورازم کے علاقوں کو معاشی طور پر بہت نقصان ہوا ہے،نیشنل ٹورازم پالیسی پر ہم فوکس کر رہے ہیں،ٹورازم وزیراعظم کی ترجیح میں ہے۔توجہ دلائونوٹس پر مریم اور نگزیب نے کہاکہ حکومت کر کیا رہی ہے ،ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی ایک کروڑلوگوں کو بے روزگار کردیا،50 لاکھ گھروں کی بات کی پچاس لاکھ گھروں کے چولھے بھجادیئے،کورونا کو خوش قسمتی نہ سمجھیں۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ پی ٹی ڈی سی کے ملازمین کو کیوں نکالا جا رہا ہے،ساڑھے چار سو ملازمین کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے نکال دیا ہے،یہ کوئی آمریت نہیں ہے کہ فاشزم کی طرح نوٹیفکیشن نکال کر لوگوں کو نکال دیا جائے،وزیراعظم پی ٹی ڈی سی کے بغیر ٹورازم کو نہیں اٹھا سکتے ،پرائیویٹ پارٹنرشپ میں صرف چینی چوری ہورہی ہے۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ بتایا جایے چینی چوری کس نے کی ہے۔اس موقع پر مریم اورنگزیب کا مائیک بند کرنے پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا ۔وزیرمملکت علی محمد خان نے کہاکہ اس ملک میں سیاحت کی سب سے بڑی خدمت تو میاں نواز شریف نے کی ہے،گذشتہ کئی ماہ سے میاں نواز شریف لندن میں بیٹھ کر سیاحت کی خدمت کررہے ہیں،سیاست پر بات کریں گے تو سیاسی جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مریم اورنگزیب صاحبہشور نہ کریں ،اگر آپ شور کریں گے تو مرادسعید کو بلالیں گے اور آپ واک آئوٹ کر جائیں گے۔ڈاکٹر عباد اللہ نے کہاکہ مالم جبہ کیس جو نیب میں ہے وہ کس حکومت نے دیا تھا،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مالم جبہ کس نے کس کو دیا تھا،ٹریفک اور ریلوے ،بازار مساجد ایس او پی کیساتھ کھولے جاتے ہیں ،تو ٹورزام کو کیوں ایس او پی کے تحت نہیں کھولا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی ڈی سی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا ماڈل بتا دیں ،کے پی کے کے مالاکنڈ ہزارہ ڈویڑن چار ماہ کی سیاحت پر انحصار کرتے ہیں ،بازار ، شاپنگ مال ایس او پی کے ساتھ جھولے جاتے ہیں ،تو ایس او پی کے تحت سیاحت نہ کھول کر کیا پیغام دیا جاتا ہے ،زیادہ تر ہوٹل لیز پر لیئے گئے ہوتے ہیں ،حکومت کے پاس کیا پلان ہے سیاحت انڈسٹری کیلئے؟وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے کہاکہ پاکستان پانچ ایسے ممالک میں شامل ہوچکا ہے جو کورونا کو احسن طریقے ہینڈل کیا،میرا اسلام آباد کے او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹرز کو کھولنے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس تھا،توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ این سی او سی کا فیصلہ تھا کہ او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹرز کھولنے سے منع کیا،میں نے اسد عمر سے این سی او سی میں ملاقات کی انہوں نے صاف کہا کہ این سی او سی نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا،یہ وزارت صحت کا اپنا فیصلہ ہے،میری درخواست ہے کہ اس حوالے سے رولنگ دی جائے ،ڈپٹی اسپیکر نے اس معاملہ پر کوئی رولنگ نہ دی۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس (کل)جمعرات کو دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔


موضوعات: