جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

یہ کام معیشت کو گہری دلدل میں دھکیل رہا ہے،پاکستان نے 32 سالو ں میں آئی ایم ایف سے کتنی بار قرض لیاجبکہ اسی عرصے میں سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھارت نے کتنا قرض لیا؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 12  جولائی  2020 |

کراچی (این ین آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ، ایف پی سی سی آئی میں بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے حکومت کی جانب سے خسارے پر قابو پانے اور آمدنی بڑھانے کی کوششوں میں ضرورت سے زیادہ سرگرمیوںنے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔کرونا وائرس اور لاک ڈائون نے دنیا بھر میں معیشت کو بٹھا دیا ہے

مگر یہاں ٹیکس کے ناقابل حصول اہداف مقرر کئے جا رہے ہیں جس سے فائدے کے بجائے مزید نقصان ہو گا۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت خطے کے درجنوں ممالک کو بھی کئی دہائیوں سے خسارے کا سامنا ہے مگر انکی حکومتیں ہنگامی و انقلابی اورمتنا زع اقدامات کے ذریعے معیشت کو تلپٹ کرنے کے بجائے اس کا مناسب انتظام کر رہی ہیں اور ان ملکوں کی ترقی انکی کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے۔ہم گزشتہ32 سالوں میںادائیگیوں کو متوازن رکھنے اور دیوالیہ پن سے بچنے کے لئے 13 بارآئی ایم ایف سے قرضہ لے چکے ہیں جبکہ اسی دوران سری لنکا نے چھ بار، بنگلہ دیش نے چار بار اور بھارت نے صرف ایک بار قرضہ لیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ممالک کی اکنامک مینجمنٹ پاکستان سے بدرجہا بہتر ہے۔بھارت کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی 1990 سے کرنٹ اکائونٹ کے زبردست خسارے کا شکار ہیں مگر ان مسائل نے انکے اوسان خطا نہیں کئے۔گزشتہ 20سالوں میں بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے اپنے بنیادی خسارے اور قرضوں کا بہتر استعمال کیا جس نے بھارت ،بنگلہ دیش کو اکنامک ہائوس اور سری لنکا کو سماجی ترقی کی روشن مثال بنا ڈالا جبکہ ہماری معیشت دلدل میں ڈوبتی چلی گئی ۔انھوں نے کہا کہ حکومت خسارے سے پریشان نہ ہو اور ٹیکس کے اہداف کم کرتے ہوئے مقامی سرمایہ کاروں کو بہتر ماحول فراہم کرے تو کاروباری برادری ملک کو مسائل سے نکال لے گی اورترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…