جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

عمر 67 سال ،دل کی مرکزی شریانیں بند ،ادویات لینے سے دماغ پر برا اثر پڑا ، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی معاف کرنے کا کہا ہے ، جسٹس فائزکو دھمکی دینے والے ملزم کا جواب سپریم کورٹ میں جمع

datetime 9  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو دھمکی آمیز ویڈیو کے معاملے پر ملزم نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کرادیا جس میں موقف اختیار کیاگیاکہ 29 سال سے پیش امام ہوں، زبان پھسل گئی۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں علامہ آغا افتخارالدین مرزاکی جانب سے اعلیٰ عدلیہ اور ججز کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا جب کہ ملزم افتخارالدین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا۔ اس سے قبل ملزم افتخارالدین کی جانب سے سپریم کورٹ میں غیر مشروط معافی نامہ بھی جمع کروایا گیا تھا۔بدھ کو سپریم کورٹ میں اپنے جمع کرائے گئے جواب میں ملزم آغا افتخارالدین مرزا کا کہنا تھا کہ گزشتہ 29 سالوں سے مورگاہ راولپنڈی میں امام بارگاہ میں پیش امام ہوں، 14جون کو زبان پھسل گئی اور جسٹس قاضی فائزعیسٰی اورسپریم کورٹ کے بارے میں جو کہا اس پر ندامت ہے۔ملزم کا کہنا ہے کہ جیسے ہی غلطی کا احساس ہوا سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کرایا جسے مسترد کردیا گیا۔ آغا افتخارالدین مرزا کا کہنا کہ میری عمر 67 سال ہے،دل کی مرکزی شریانیں بند ہیں، اوپن ہارٹ سرجری کرانے کا کہا گیا ہے، باقاعدگی سے ادویات لینے سے دماغ پر برا اثر پڑا ہے،کبھی کبھی بے عقلی اور مایوسی والی باتیں کرنا شروع کر دیتا ہوں۔ملزم نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی معاف کرنے کا کہا ہے، عہد کرتا ہوں مستقبل میں کبھی ایسی بات نہیں کروں گا،سپریم کورٹ معافی نامہ قبول کرکے توہین عدالت کی کارروائی ختم کردے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…