جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

عمر 67 سال ،دل کی مرکزی شریانیں بند ،ادویات لینے سے دماغ پر برا اثر پڑا ، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی معاف کرنے کا کہا ہے ، جسٹس فائزکو دھمکی دینے والے ملزم کا جواب سپریم کورٹ میں جمع

datetime 9  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو دھمکی آمیز ویڈیو کے معاملے پر ملزم نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کرادیا جس میں موقف اختیار کیاگیاکہ 29 سال سے پیش امام ہوں، زبان پھسل گئی۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں علامہ آغا افتخارالدین مرزاکی جانب سے اعلیٰ عدلیہ اور ججز کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا جب کہ ملزم افتخارالدین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا۔ اس سے قبل ملزم افتخارالدین کی جانب سے سپریم کورٹ میں غیر مشروط معافی نامہ بھی جمع کروایا گیا تھا۔بدھ کو سپریم کورٹ میں اپنے جمع کرائے گئے جواب میں ملزم آغا افتخارالدین مرزا کا کہنا تھا کہ گزشتہ 29 سالوں سے مورگاہ راولپنڈی میں امام بارگاہ میں پیش امام ہوں، 14جون کو زبان پھسل گئی اور جسٹس قاضی فائزعیسٰی اورسپریم کورٹ کے بارے میں جو کہا اس پر ندامت ہے۔ملزم کا کہنا ہے کہ جیسے ہی غلطی کا احساس ہوا سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کرایا جسے مسترد کردیا گیا۔ آغا افتخارالدین مرزا کا کہنا کہ میری عمر 67 سال ہے،دل کی مرکزی شریانیں بند ہیں، اوپن ہارٹ سرجری کرانے کا کہا گیا ہے، باقاعدگی سے ادویات لینے سے دماغ پر برا اثر پڑا ہے،کبھی کبھی بے عقلی اور مایوسی والی باتیں کرنا شروع کر دیتا ہوں۔ملزم نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی معاف کرنے کا کہا ہے، عہد کرتا ہوں مستقبل میں کبھی ایسی بات نہیں کروں گا،سپریم کورٹ معافی نامہ قبول کرکے توہین عدالت کی کارروائی ختم کردے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…