عمر 67 سال ،دل کی مرکزی شریانیں بند ،ادویات لینے سے دماغ پر برا اثر پڑا ، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی معاف کرنے کا کہا ہے ، جسٹس فائزکو دھمکی دینے والے ملزم کا جواب سپریم کورٹ میں جمع

  جمعرات‬‮ 9 جولائی‬‮ 2020  |  10:31

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو دھمکی آمیز ویڈیو کے معاملے پر ملزم نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کرادیا جس میں موقف اختیار کیاگیاکہ 29 سال سے پیش امام ہوں، زبان پھسل گئی۔خیال رہے کہ گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں علامہ آغا افتخارالدین مرزاکی جانب سے اعلیٰ عدلیہ اور ججز کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا جب کہ ملزم افتخارالدین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا


تھا۔ اس سے قبل ملزم افتخارالدین کی جانب سے سپریم کورٹ میں غیر مشروط معافی نامہ بھی جمع کروایا گیا تھا۔بدھ کو سپریم کورٹ میں اپنے جمع کرائے گئے جواب میں ملزم آغا افتخارالدین مرزا کا کہنا تھا کہ گزشتہ 29 سالوں سے مورگاہ راولپنڈی میں امام بارگاہ میں پیش امام ہوں، 14جون کو زبان پھسل گئی اور جسٹس قاضی فائزعیسٰی اورسپریم کورٹ کے بارے میں جو کہا اس پر ندامت ہے۔ملزم کا کہنا ہے کہ جیسے ہی غلطی کا احساس ہوا سپریم کورٹ میں معافی نامہ جمع کرایا جسے مسترد کردیا گیا۔ آغا افتخارالدین مرزا کا کہنا کہ میری عمر 67 سال ہے،دل کی مرکزی شریانیں بند ہیں، اوپن ہارٹ سرجری کرانے کا کہا گیا ہے، باقاعدگی سے ادویات لینے سے دماغ پر برا اثر پڑا ہے،کبھی کبھی بے عقلی اور مایوسی والی باتیں کرنا شروع کر دیتا ہوں۔ملزم نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی معاف کرنے کا کہا ہے، عہد کرتا ہوں مستقبل میں کبھی ایسی بات نہیں کروں گا،سپریم کورٹ معافی نامہ قبول کرکے توہین عدالت کی کارروائی ختم کردے۔


موضوعات: