جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کو زمین فروخت کرنا شرعاً حرام ہے ، دارالافتاء

datetime 6  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان او آئی سی ، اقوام متحدہ بھارت کی سازشوں کا نوٹس لے پاکستان علماء کونسل اور دارالافتاء پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کی آباد کاری کی سازش کو سمجھتے ہوئے اپنی جائیدادیں اور زمینیں ہندوئوں کو فروخت نہ کریں۔ کشمیر شروع سے ایک مسلمان ریاست ہے جو کسی بھی حیثیت سے بھارت کا حصہ نہیں ہے ۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں اور خود بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35 اے اس بات کو تسلیم کرتی ہیں۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور صدر دارالافتاء پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی محمد عمر فاروق ، علامہ عبد الحق مجاہد،مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا اسعد زکریا قاسمی، مولانا نعمان حاشر ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا ابو بکر صابری ، مولانا طاہر عقیل اعوان نے اپنے ایک فتویٰ میں کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و جبر کر کے انہیں بد ترین کرفیواور لاک ڈائون کا نشانہ بنایا ہوا ہے اور بھارت کے آئین میں تبدیلی کر کے اسے بھارت کا حصہ بنانے کی سازش کر رہا ہے اور اب اس کی یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ کشمیر میں بھارتی ہندوئوں کو اُسی طرح لا کر آباد کیا جائے جس طرح صہیونی یہودیوں نے فلسطین کی زمینوں پر قبضہ کر کے مسلمانوں کو وہاں سے جلا وطن کیا اور اسرائیل کی ناجائز ریاست قائم کر لی۔ ان حالات میں کشمیر کے مسلمانوں کیلئے شرعی طور پر جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زمینیں کسی ہندو کو فروخت کریں۔ ایساکرنے والے شرعی طور پر اور قومی طورپر مجرم اور غدار ہوں گے۔قرآن و سنت کے احکام اس بارے میں واضح ہیں ایسی کسی بھی چیز کو جس سے کفار مضبوط ہوں اور مسلمانوں کے خلاف اس کو استعمال کریں بیچنا گناہ اور حرام ہے۔ بھارتی حکومت ریاست کشمیر کی حیثیت ختم کرنے کے درپے ہے جو وہاں مسلمانوں کا

پیدائشی حق ہے اور عالمی طور پر مسلمہ ہےاورخود بھارت کا اصل دستور بھی اس کی گواہی دیتا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی حیثیت ختم کرنے کیلئے ہندوئوں کو بسانے کا قانون پاس کر چکا ہے لہذا مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ بھارت کے اس ناپاک عمل کو ناکام بنا دیںاور ہر طرح سے اس کو روکیں اور شریعت اسلامیہ کے احکامات کی روشنی میں ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر کی زمین کی

فروخت حرام اور گناہ ہے جو اس طرح کرے گا وہ عند اللہ ، عند الناس گناہ کا مرتکب ہوگا۔حکومت پاکستان ، او آئی سی (OIC)، اقوام متحدہ سمیت تمام مسلمان ملکوں کا فرض ہے کہ وہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی ہر طرح سے مدد کریں اور بھارت کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہ ہونے دیں اور اس طرح اسرائیل کو مقبوضہ فلسطین کی زمینوں پر آباد کاری سے روکنے کیلئے عملی کردار ادا کریں۔پاکستان علماء کونسل آئندہ ہفتہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کی صورتحال پر اسلام آباد میں مظلومین کشمیر و فلسطین کانفرنس منعقد کرے گی۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…