بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کیخلاف درخواستیں فیصلے کی گھڑی آگئی

datetime 6  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ درون سماعت عدالت نے سی ڈی اے سے استفار کیاکہ پلاٹ کس جگہ واقع ہے اور کس مقصد کے لیے استعمال ہو گا؟ ۔ ڈائریکٹر اربن پلاننگ سی ڈی اے نے کہاکہ ایچ نائن ٹو میں 2016 میں پلاٹ دینے کے

حوالے سے کارروائی شروع ہوئی۔ سی ڈی اے نے کہاکہ مندر،کمیونٹی سنٹر یا شمشاد گاٹ کے لیے یہ جگہ ہندو کمیونٹی کو الاٹ ہوئی۔ جسٹس عامر فاروق نے سی ڈی اے سے استفسار کیاکہ مندر کا نقشہ آیا ہے منظوری کے لیے یا نہیں؟ ۔ سی ڈی اے نے کہاکہ ابھی معلوم نہیں لیکن منظوری کے لئے آیا نہیں ہے۔سی ڈی اے نے کہاکہ وزارت مذہبی امور، اسپیشل برانچ اور اسلام آباد انتظامیہ کی تجاویز کے بعد پلاٹ الاٹ کیا، اسی پلاٹ کے ساتھ عیسائی،بھائی،قادیانی اور بدھ مت کمیونٹی کے لیے قبرستان کی جگہ الاٹ ہو چکی۔سی ڈی اے نے کہاکہ 3.89 کنال جگہ 2017 میں الاٹ کرکے 2018 میں جگہ ہندو پنچایت کے حوالے کی۔سی ڈی اے حکام نے بیان دیا کہ مندر کا بلڈنگ پلان نہ ہونے کی وجہ سے کام رکوا دیا ہے۔  ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے بتایاکہ حکومت نے ابھی تک مندر کی تعمیر کے لیے کوئی فنڈنگ نہیں کی، درخواست گزار میں دس کروڑ روپے کا کہہ رہے ہیں لیکن حکومت نے ابھی کوئی فنڈنگ نہیں کی،حکومت نے مندر کے لیے فنڈنگ کے معاملے پر اسلامی نظریاتی سے سفارشات مانگی ہیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ دنیا میں اچھا پیغام نہیں جا رہا، آئین بھی غیر مسلموں کو اس کی اجازت دیتا ہے۔ ڈائریکٹر اربن پلاننگ سی ڈی اے نے کہاکہ اسلام آباد ہندو پنچایت کے نام یہ پلاٹ الاٹ ہوا ہے،دیگر کمیونٹیز کو 90 کی دہائی کے شروع میں قبرستان بنانے کے لیے پلاٹ الاٹ ہوئے، شروع میں آرچرڈ سکیم بنائی گئی مسلم قبرستان کے بعد دیگر کمیونٹیز کے لیے جگہ دی گئی۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کو معاملہ حکومت نے بھیجوا دیا ہے۔وکیل درخواست گزار نے کہاکہ مندر کی منظوری اور فنڈنگ دو الگ الگ مسئلے ہیں، حکومت نہ فنڈنگ دے سکتی ہے نہ مندر بنانے کی منظوری دے سکتی ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…