جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کیخلاف درخواستیں فیصلے کی گھڑی آگئی

datetime 6  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ درون سماعت عدالت نے سی ڈی اے سے استفار کیاکہ پلاٹ کس جگہ واقع ہے اور کس مقصد کے لیے استعمال ہو گا؟ ۔ ڈائریکٹر اربن پلاننگ سی ڈی اے نے کہاکہ ایچ نائن ٹو میں 2016 میں پلاٹ دینے کے

حوالے سے کارروائی شروع ہوئی۔ سی ڈی اے نے کہاکہ مندر،کمیونٹی سنٹر یا شمشاد گاٹ کے لیے یہ جگہ ہندو کمیونٹی کو الاٹ ہوئی۔ جسٹس عامر فاروق نے سی ڈی اے سے استفسار کیاکہ مندر کا نقشہ آیا ہے منظوری کے لیے یا نہیں؟ ۔ سی ڈی اے نے کہاکہ ابھی معلوم نہیں لیکن منظوری کے لئے آیا نہیں ہے۔سی ڈی اے نے کہاکہ وزارت مذہبی امور، اسپیشل برانچ اور اسلام آباد انتظامیہ کی تجاویز کے بعد پلاٹ الاٹ کیا، اسی پلاٹ کے ساتھ عیسائی،بھائی،قادیانی اور بدھ مت کمیونٹی کے لیے قبرستان کی جگہ الاٹ ہو چکی۔سی ڈی اے نے کہاکہ 3.89 کنال جگہ 2017 میں الاٹ کرکے 2018 میں جگہ ہندو پنچایت کے حوالے کی۔سی ڈی اے حکام نے بیان دیا کہ مندر کا بلڈنگ پلان نہ ہونے کی وجہ سے کام رکوا دیا ہے۔  ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے بتایاکہ حکومت نے ابھی تک مندر کی تعمیر کے لیے کوئی فنڈنگ نہیں کی، درخواست گزار میں دس کروڑ روپے کا کہہ رہے ہیں لیکن حکومت نے ابھی کوئی فنڈنگ نہیں کی،حکومت نے مندر کے لیے فنڈنگ کے معاملے پر اسلامی نظریاتی سے سفارشات مانگی ہیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ دنیا میں اچھا پیغام نہیں جا رہا، آئین بھی غیر مسلموں کو اس کی اجازت دیتا ہے۔ ڈائریکٹر اربن پلاننگ سی ڈی اے نے کہاکہ اسلام آباد ہندو پنچایت کے نام یہ پلاٹ الاٹ ہوا ہے،دیگر کمیونٹیز کو 90 کی دہائی کے شروع میں قبرستان بنانے کے لیے پلاٹ الاٹ ہوئے، شروع میں آرچرڈ سکیم بنائی گئی مسلم قبرستان کے بعد دیگر کمیونٹیز کے لیے جگہ دی گئی۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کو معاملہ حکومت نے بھیجوا دیا ہے۔وکیل درخواست گزار نے کہاکہ مندر کی منظوری اور فنڈنگ دو الگ الگ مسئلے ہیں، حکومت نہ فنڈنگ دے سکتی ہے نہ مندر بنانے کی منظوری دے سکتی ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…