جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

کروناکےبعدمختلف شہروں میں بچوں میں’’ کواسا کی ‘‘ نامی بیماری پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ،بروقت علاج ورنہ ۔۔ ماہرین نے خوفناک انتباہ جاری کر دیا

datetime 4  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آؓباد(آن لائن) کرونا وبا ء کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں بچوں میں’’ کواسا کی ‘‘ نامی بیماری پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں ،یہ بیماری زیادہ تر ان بچوں کو متاثر کرتی ہے جو کورونا بیماری سے صحت یاب ہوجاتے ہیں تاہم والدین کو کووڈ19کا پتہ نہیں چلتا ہے جس کی اصل وجہ چھوٹے بچوں میں کورونا کے اثرات کا ظاہر نہ ہونے کے باعث بیماری کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کواساکی نامی بیماری کی وجہ سے بچوں کے جسم پر چیچک نما دانے نمودار ہوتے ہیں اس کے علاوہ آنکھوں کا سرخ ہونا ،بخار ،انکھوں سے پانی بہنا،زبان کا سرخ اور پک جانا جیسی اہم علامات ہیں ماہرین کے مطابق بروقت علاج سے صحت یابی ممکن ہے اس حوالے سے چلڈرن ہاسپٹل پمز کے ماہر امرض بچگانہ ڈاکٹر جے کرشن نے بتایاکہ کاواساکی نامی بیماری جاپان اور چین میں اکثر بچوں کو متاثر کرتی ہے لیکن پاکستان میں پہلی دفعہ اس کے مریض سامنے آئے ہیں اس وقت لاہور میں چار بچوں کو یہ بیماری لاحق ہوچکی ہے جن کا علاج جاری ہے اور اسلام آباد میں ابھی تک اس بیماری سے متاثرہ بچے سامنے نہیں آئے ہیں انہوںنے بتایاکہ بچوں میں اس بیماری کے اثرات نمودار ہونے کے بعد فوراً ماہرین امراج بچگانہ کے پاس لے جا کر تشخیص کرنی ضروری ہے ورنہ اس بیماری کے بروقت علاج نہ ہونے پر بچوں کے دل کے شریانوں پر حملہ ہوسکتا ہے جس سے شریانوں میں سوجن پیدا ہوجاتی ہے اور اس وجہ سے بچوں کی موت لاحق ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہوجاتا ہے انہوںنے بتایاکہ اس کے علاج کیلئے بچوں کو ایک خاص قسم کا انجکشن لگا کر ہر مہینے بعدایکو ٹیسٹ اور ای سی جی کرواکر ان کے دل کی دھڑکن کو کنٹرول کیا جاتا ہے انہوںنے کہاکہ بچوں میں

کواساکی نامی بیماری کے اثرات کیلئے والدین کو خصوصی طور پر اگاہی کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کا بروقت علاج ممکن ہوسکے طبی ماہرین کے مطابق کاواساکی نامی بیماری ایک بچے سے دوسرے بچے میں منتقل نہیں ہوتی ہے اس بیماری کی وجہ سے جاپان اور چین میں بچوں کی شرح اموات زیادہ ہے تاہم ابھی تک پاکستان میں اس بیماری سے کسی بھی بچے کے جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ہے

طبی ماہرین نے اس بیماری کا پاکستان میں ظاہر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی ہے کہ کرونا کی وجہ سے بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے نہ لگنے کی وجہ سے بھی یہ بیماری لاحق ہونے کا خدشہ ہے واضح رہے کہ کرونا کی وباء کی وجہ سے ہسپتالوں اور حفاظتی ٹیکہ جات کے مراکز کی بندش کی وجہ سے اکثریتی والدین نے اپنے نومولاد بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل نہیں کرایا ہے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…