جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

نیب نے جو تفتیش کرنی ہے ٹی وی کا کیمرہ لگا کر کرے ،عدالتی کارروائی بھیکیمرہ لگا کر ہونی چاہیے،12 سال جو بے عزتی ہوئی اس کا کو ن ذمہ دار ہے ، کسی کے پاس کوئی جواب ہے ؟سابق وزیراعظم نے خاموشی توڑ دی ، بڑا اعلان 

datetime 3  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ نیب نے جو تفتیش کرنی ہے ٹی وی کا کیمرہ لگا کر کرے ،عدالتی کارروائی بھی کیمرہ لگا کر ہونی چاہیے،کوئی شہادت نہیں، کوئی کیس نہیں بس دبانے کیلئے نیب استعمال ہو رہا ہے، راجہ پرویزاشرف بارہ سال بعد بری ہوئے

،بارہ سال جو بے عزتی ہوئی اس کا کو ن ذمہ دار ہے ، کسی کے پاس کوئی جواب ہے ؟۔ جمعہ کو احتساب عدالت کے باہر کی میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ایک بار پھر نیب عدالت میں پیشی تھی، پہلے ایک سال تفتیش ہوتی رہی، سوال نامے پر سوال نامہ بھر کر دیا،گرفتار کرلیا گیا، کوئی جواز نہیں دیا گیا،70 دن نیب نے ریمانڈ لیا، ایک سوال نہ کیا،ٹوٹل 8 ماہ کے قریب کسٹڈی میں رہا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسانی حقوق کے ایشو پر ضمانت دی،ایک سال ہوگیا، کوئی الزام نہیں لگ سکا،جو سوال کیا، جو کاغذ مانگا، ہم نے مہیا کیا،نیب نے جو تفتیش کرنی ہے ٹی وی کا کیمرہ لگا کر تفتیش کریں،عدالتی کارروائی بھی کیمرہ لگا کر ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ آج تک ایک الزام نہیں لگا، الزام لگانا بڑا آسان ہے،کوئی شہادت نہیں، کوئی کیس نہیں بس دبانے کیلئے نیب استعمال ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ راجہ پرویز اشرف کو 12 سال بعد بری کیا گیا،12 سال جو بے عزتی ہوئی اس کا کون ذمہ دار ہے، کسی کے پاس کوئی جواب ہے؟پہلے تفتیش کریں، الزام لگائیں پھر عدالت میں آئیں۔ انہوںنے کہاکہ ایک سال سے عدالتوں کا چکر لگا رہے ہیں، الزام نہیں لگ سکا،اس کیس کے اندر پاکستان کی سب سے بڑی کمپنی کے مالکان ملوث کیے گئے ہیں،ہم آج بھی کہتے ہیں انصاف کے تقاضے بڑے واضح ہوتے ہیں،چیئرمین نیب سپریم کورٹ کا جج رہ چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…