بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

قومی اسمبلی میں فنانس بل پر رائے شماری نے وزیراعظم کی کمزوری عیاں کردی، عمران خان کیخلاف ہائی کورٹ میں حیرت انگیز درخواست جمع کرا دی گئی

datetime 2  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں فنانس بل پر رائے شماری نے وزیراعظم کی کمزوری عیاں کردی اور ان کی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے لہذا صدر مملکت وزیراعظم سے اعتماد کے ووٹ کے حصول کا تقاضا کریں، صدر مملکت کا مذکورہ آئینی اختیار جنرل ضیاء الحق کے دور میں آئین میں شامل کیا گیا اور اٹھارہویں ترمیم کے باوجود یہ اب تک آرٹیکل91میں موجود ہے، ایک رٹ پٹیشن میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا گیا ہے کہ

فنانس بل کی منظوری آئین کے طے کردہ طریقہ کار کے برعکس ہوئی ہے اوراس سے وزیراعظم پر ایوان کے اعتماد کا اظہار نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ آرٹیکل95 میں دی گئی تحریک عدم اعتماد کی نسبت آرٹیکل 91 کا طریقہ کار خاصا مختلف ہے اور اس میں وزیراعظم کے مخالفین کو عدم اعتماد کی قرارداد پیش کر نے کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔پٹیشن میں ہائیکورٹ کے روبر سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا فنانس بل کی منظوری وزیراعظم پر قومی اسمبلی کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور کیا صدر مملکت اس بارے اپنے آئینی اختیار کے استعمال کے لئے خود کو تیار پاتے ہیں؟ پاکستان کی آئینی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ سوال کسی ہائیکورٹ کے روبرو اٹھایا گیا ہے اور خود جنرل ضیاء الحق نے اسے کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ ہائیکورٹ سے کہا گیا ہے کہ صدر مملکت درخواست کی جائے کہ وہ وزیراعظم کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات سے قطع نظر آئینی تقاضا پورا کریں۔درخواست گزار شاہد اورکزئی نے ہائیکورٹ پر واضح کیا کہ آئین صدر مملکت اور وزیراعظم کو سیاسی طور پر ہم جماعت نہیں سمجھتا اور صدر مملکت حلفاً کہہ چکے ہیں کہ وہ ہر حالت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ قانون کے مطابق بلا خوف و رعایت پیش آئیں گے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے اعتماد کا پیمانہ اسمبلی کے کل ارکان کی اکثریت ہے جس کو حاصل کیے بغیر کوئی شخص وزیراعظم

نہیں بن سکتا لیکن فنانس بل کے لئے وفاقی حکومت کل ارکان کی اکثریت کی بجائے حاضر ارکان کی اکثریت کو اعتماد کا پیمانہ بنارہی ہے جو یکسر غیر آئینی ہے کیونکہ عدم اعتماد کے لئے بھی اسمبلی کے کل ارکان کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔درخواست گزار نے واضح کیا کہ وزیراعظم کے حامی وزیراعظم کے انتخاب کے لئے دیئے گئے طریقہ کار سے وزیراعظم پر اعتماد کی راہیں تلاش کررہے ہیں حالانکہ انتخابی طریقہ کار اور فنانس بل کی

منظوری دوبالکل علیحدہ معاملے ہیں اور انتخابی ووٹ گننا مخالف امیدواروں کے درمیان سبقت طے کرتا ہے جبکہ فنانس بل کی منظوری کے لئے رائے شماری میں ایسی کوئی مسابقت نہیں ہوتی۔شاہد اورکرزئی نے یاد دلایا کہ وزیراعظم عمران خان آرٹیکل91 کے تحت پہلی رائے شماری میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرکے کامیاب ہوئے اور دوسری یا تیسری رائے شماری کی نوبت ہی نہیں آئی لہذا اب ان کے اعتماد کے لئے کوئی نیا پیمانہ نہیں گھڑا جاسکتا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…