جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

’’کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے ‘‘ان الفاظ پر غور کیا جائے کیا یہ درست ہیں؟ ہائیکورٹ نے درخواست اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دی

datetime 2  جولائی  2020 |

لاہور( این این آئی )لاہور ہائیکورٹ نے اخبارات، ٹی وی چینلز اور سرکاری ذرائع ابلاغ پر کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے جیسے الفاظ کے استعمال کیخلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے کے الفاظ کا جائزہ لینے کے لئے درخواست اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دی ۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے درخواست پر سماعت کی ۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے آئندہ اجلاس میں ان الفاظ پر غور کیا جائے کہ کیا یہ الفاظ درست ہیں؟ ،اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے سے صدر مملکت، وزیراعظم اور لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کرے۔ فاضل عدالت نے وفاقی حکومت کو تفصیلی تحریری جواب بھی جمع کروانے کی ہدایت کر دی ۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ دنیا میں صرف دو ریاستیں ہیں ایک اسرائیل اور ایک پاکستان جو مذہب کی بنیاد پر قائم ہیں، آئین کے دیباچے میں کہا گیا ہے کہ حکمرانی اللہ کی ہے تو اللہ کے احکام کی وضاحت نبی کریم نے کی ہے، اللہ کی حکمرانی کے بعد پارلیمنٹ کی کی بالادستی محدود ہو جاتی ہے، آرٹیکل 2 اے کی موجودگی میں ہماری پارلیمنٹ کی بالادستی اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہے۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے استفسار کیا کرونا سے لڑنا نہیں ڈرنا ہے کے لفظ کے استعمال سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لی ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے پتہ کرنا پڑے گا کہ کس محکمے نے اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لآپ کے وزیراعظم نے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ سے ایسے الفاظ کے استعمال کی کوئی منظوری نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے آپ پارلیمنٹ کو مان ہی نہیں رہے، وزیر اعظم کس حیثیت میں یہ لفظ استعمال کر رہے ہیں جب کہ یہ پارلیمنٹ سے منظور ہی نہیں ہوا، ،کچھ لوگوں کے جملے الفاظ کلمات حکومت پاکستان کے نظریے کو ظاہر کرتے ہیں۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے قومی اخبارات، ٹی وی چینلز اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں غیر اخلاقی اور غیر اسلامی الفاظ کا استعمال کیا جارہا ہے۔

اللہ کے فیصلوں کیخلاف کوئی بھی نہیں لڑ سکتا، دقطع نظر اس بات کے کہ کرونا وائرس قدرتی ہے یا انسان کا بنایا ہوا لیکن دنیا کو کوئی طاقت اللہ کی رحمت کے بغیر ایسی وبا ء پر قابو نہیں پا سکتی، ٹی وی چینلز، اخبارات اور دیگر سرکاری ذرائع ابلاغ میں کرونا وائرس لڑنے جیسے الفاظ کا استعمال غیر اخلاقی اور غیر اسلامی ہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آئین کے تحت اسلامی اقدار کی ترویج کرنے کی ضرورت ہے، استدعا ہے کہ پاکستان میں کرونا سے لڑنے جیسے الفاظ کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں متعلقہ حکام کو اسلامی اقدار اپنانے کیلئے احکامات دیئے جائیں، وباء کیخلاف مہم کے دوران غیر اسلامی اور غیر اخلاقی الفاظ کے استعال کرنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا جائے۔ درخواست گزار نے مزید استدعا کی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کرونا وائرس پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…