منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

نجی ٹی وی پروگرام میں پلوشہ خان اور اینکر عمران خان میں شدید جھڑپ وجہ کیا بنی؟ کیا اینکر نے ایک خاتون کیساتھ ٹھیک کیا؟ سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

datetime 2  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں اینکر عمران خان اور پلوشہ خان میں تلخ جملوں کا تبادلہ جس میں پلوشہ خان نے الزام لگایا کہ آپ تو یہاں بیٹھ کر ان لوگوں کی وکالت کررہے ہیں۔جس پر اینکر عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں سندھ کی وکالت تو کروں گا، سندھ کی وکالت سے نہ تو مجھے پلوشہ روک سکتی ہے۔

نہ بلاول روک سکتا ہے، سندھ کی عوام پر آپ ظلم کریں گے ، سندھ کی عوام کو گولیاں ماریں گے، سندھ میں ایک صحافی کو گولیاں ماریں گے، سندھ کے ہسپتالوں کی حالت خراب ہے میں تو اس پر بات کروں گا، تھر میں بچے مررہے ہیں، میں اس پر بات کروں گا۔پلوشہ خان اینکر عمران خان کے جواب پر بھڑک اٹھیں اور اینکر عمران خان کو مشورہ دیا کہ آپ فرخ حبیب کی کرسی پر بیٹھ جائیں۔ مجھے معاف کریں، میرے سر میں آگے ہی درد ہیں۔اگر آپ نے مجھے بلایا ہے اور میری بات نہیں سننی تو میں چلی جاتی ہوںجس پر اینکر عمران خان نے کہا کہ یہ آپکی مرضی ہے۔ آپ میرے اوپر چڑھائی کریں گی تو کیا میں آپکو چڑھنے دوں گا؟ یہ نہیں ہوسکتا۔ آپ سیاسی بات کریں، میرے منہ اتنا لگیں جتنی آپکو ضرورت ہے۔اس پر پلوشہ خان غصے میں آگ بگولہ ہوگئیں اور کہا کہ آپکی بات کوئی صحیفہ ہے؟ آپکی بات پر اعتراض نہیں ہوسکتا؟ جس پر اینکر عمران خان نے کہا کہ میں ٹھیک بات کررہا ہوں، آپ مجھ پر چڑھائی تو نہ کریں۔ پلوشہ! یہ بدمعاشی نہیں چلے گی، میں کرنے نہیں دوں گا بدمعاشی۔۔ اگر آپ نے موقف دینا ہے تو دیں، نہیں دینا تو مائیک اتاریں اور چلی جائیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اینکر عمران خان نے غصے میں کہا کہ اتاریں مائیک اور چلی جائیں، یہ چڑھائی میں آپکو نہیں کرنے دوں گا۔

بدتمیزی نہیں کرنے دوں گا۔ جو صحافی آپکی بدتمیزی سنتے ہیں انکے ساتھ جاکر بدتمیزی کرو۔ کیا ہوگیا اگر ہم سندھ کی عوام کی بات کرتے ہیں؟ آپ مجھے لٹکادیں تو میں بات کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔اینکر عمران خان اور پلوشہ خان کی یہ لڑائی سوشل میڈیا بہت زیر بحث ہے۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ ایک تو میڈیا سندھ کی بیڈگورننس پر بات نہیں کرتا، اگر بات کرتا ہے تو سندھ کے وزراء اور رہنما کردارکشی اور ذاتی حملوں پر اتر آتے ہیں۔

پیپلزپارٹی والے جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے خلاف بات سننا پسند نہیں کرتے۔کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ اینکر عمران خان کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ پلوشہ آپ بدمعاشی کررہی ہیں، انہیں تحمل سے بات کرنی چاہئے تھی۔اینکر عمران خان کے روئیے سے سب سے زیادہ پی پی کے سپورٹرز برسے اور انہوں نے #BoycottBakeryChannel کا ٹرینڈ بھی چلادیا۔ پی پی سپورٹرز اور پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے اینکر عمران خان اور جی این این سے معافی کا مطالبہ بھی کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…