جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

نجی ٹی وی پروگرام میں پلوشہ خان اور اینکر عمران خان میں شدید جھڑپ وجہ کیا بنی؟ کیا اینکر نے ایک خاتون کیساتھ ٹھیک کیا؟ سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

datetime 2  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں اینکر عمران خان اور پلوشہ خان میں تلخ جملوں کا تبادلہ جس میں پلوشہ خان نے الزام لگایا کہ آپ تو یہاں بیٹھ کر ان لوگوں کی وکالت کررہے ہیں۔جس پر اینکر عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں سندھ کی وکالت تو کروں گا، سندھ کی وکالت سے نہ تو مجھے پلوشہ روک سکتی ہے۔

نہ بلاول روک سکتا ہے، سندھ کی عوام پر آپ ظلم کریں گے ، سندھ کی عوام کو گولیاں ماریں گے، سندھ میں ایک صحافی کو گولیاں ماریں گے، سندھ کے ہسپتالوں کی حالت خراب ہے میں تو اس پر بات کروں گا، تھر میں بچے مررہے ہیں، میں اس پر بات کروں گا۔پلوشہ خان اینکر عمران خان کے جواب پر بھڑک اٹھیں اور اینکر عمران خان کو مشورہ دیا کہ آپ فرخ حبیب کی کرسی پر بیٹھ جائیں۔ مجھے معاف کریں، میرے سر میں آگے ہی درد ہیں۔اگر آپ نے مجھے بلایا ہے اور میری بات نہیں سننی تو میں چلی جاتی ہوںجس پر اینکر عمران خان نے کہا کہ یہ آپکی مرضی ہے۔ آپ میرے اوپر چڑھائی کریں گی تو کیا میں آپکو چڑھنے دوں گا؟ یہ نہیں ہوسکتا۔ آپ سیاسی بات کریں، میرے منہ اتنا لگیں جتنی آپکو ضرورت ہے۔اس پر پلوشہ خان غصے میں آگ بگولہ ہوگئیں اور کہا کہ آپکی بات کوئی صحیفہ ہے؟ آپکی بات پر اعتراض نہیں ہوسکتا؟ جس پر اینکر عمران خان نے کہا کہ میں ٹھیک بات کررہا ہوں، آپ مجھ پر چڑھائی تو نہ کریں۔ پلوشہ! یہ بدمعاشی نہیں چلے گی، میں کرنے نہیں دوں گا بدمعاشی۔۔ اگر آپ نے موقف دینا ہے تو دیں، نہیں دینا تو مائیک اتاریں اور چلی جائیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اینکر عمران خان نے غصے میں کہا کہ اتاریں مائیک اور چلی جائیں، یہ چڑھائی میں آپکو نہیں کرنے دوں گا۔

بدتمیزی نہیں کرنے دوں گا۔ جو صحافی آپکی بدتمیزی سنتے ہیں انکے ساتھ جاکر بدتمیزی کرو۔ کیا ہوگیا اگر ہم سندھ کی عوام کی بات کرتے ہیں؟ آپ مجھے لٹکادیں تو میں بات کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔اینکر عمران خان اور پلوشہ خان کی یہ لڑائی سوشل میڈیا بہت زیر بحث ہے۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ ایک تو میڈیا سندھ کی بیڈگورننس پر بات نہیں کرتا، اگر بات کرتا ہے تو سندھ کے وزراء اور رہنما کردارکشی اور ذاتی حملوں پر اتر آتے ہیں۔

پیپلزپارٹی والے جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے خلاف بات سننا پسند نہیں کرتے۔کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ اینکر عمران خان کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ پلوشہ آپ بدمعاشی کررہی ہیں، انہیں تحمل سے بات کرنی چاہئے تھی۔اینکر عمران خان کے روئیے سے سب سے زیادہ پی پی کے سپورٹرز برسے اور انہوں نے #BoycottBakeryChannel کا ٹرینڈ بھی چلادیا۔ پی پی سپورٹرز اور پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے اینکر عمران خان اور جی این این سے معافی کا مطالبہ بھی کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…