پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

اپوزیشن اپنے کئے کی معافیاں مانگ رہی ہے، عمران خان کس کی سرپرستی کر رہے ہیں؟حافظ حسین احمد کا وزیراعظم سے دھماکہ خیز مطالبہ

datetime 30  جون‬‮  2020 |

کوئٹہ(آن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ حکمران مافیا کی سرپرستی کررہے ہیں اور اپوزیشن اپنے کئے کی معافیاں مانگ رہی ہے، عمران خان اور اپوزیشن کے بعض رہنما ایک ہی ڈگر پر گامزن ہیں، حکمرانوں کی ناکام خارجہ و معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک خارجہ و معاشی محاذ پر کمزور ہورہا ہے،

اپوزیشن کی بڑی جماعتیں چھوٹی جماعتوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھے ہوئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک معاملات واضح نہیں ہیں کیوں کہ جو معاملات طے کئے گئے یا طے کرائے گئے ان کی روشنی میں اپوزیشن کے بعض رہنما انتہائی سست رفتاری کا مظاہرہ کررہے ہیں اور کوئی توقع نہیں ہے کہ اے پی سی سمیت کوئی عملی اقدام سامنے آسکے اس لیے قوم کے سامنے یہ بات آنی چاہئے کہ معاملات کیسے ہوئے ہیں اور مزید کیسے طے ہونگے اور کیا اپوزیشن اسی پوزیشن میں رہے گی اور اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھے گی جس طرح ماضی میں ان کے ساتھ سلوک ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ اختر مینگل ابھی تک آزاد نشستوں پر ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی میں جو ہمارے ساتھ ہوا اللہ نہ کرے اختر مینگل اور ان کی جماعت کے ساتھ ہو، حافظ حسین احمد نے کہا کہ عمران خان مافیا کے کپتان بن چکے ہیں اور وہ چینی، گندم اور پیٹرول مافیا کی سرپرستی کررہے ہیں عمران خان اگر واقعی مافیا کے خلاف ہیں تو پہلے اپنی کابینہ میں موجودمافیا کے خلاف کاروائی کریں، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی صفر ہے حکومت سلیکٹراورچند اتحادیوں کی بیساکیوں پر کھڑی ہے جس دن اپوزیشن سنجیدہ اور یکجا ہوئی تو ایک دن بھی حکومت چل نہیں سکتی، انہوں نے کہا کہ نااہل حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں اور کرپشن کی وجہ سے ملک معاشی طور پر کمزورہوچکا ہے، اپوزیشن جماعتوں کو اب سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…