جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

وزیراعظم کی پہلے دن ، دوسرے دن ، دو ہفتے بعد اور تین ماہ بعد بھی کورونا  سے متعلق کیا کام نہیں کیا ، بلاول بھٹو زرداری نے حیرت انگیز دعوی کر دیا

datetime 25  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی تقریر سے لگ رہا تھا بجٹ سمیٹنے کی نہیں حکومت سمیٹنے کی تقریر کر رہے ہیں ، عمران خان کی تقریر عوام کیلئے نہیں ،سلیکٹر کیلئے تھی وزیر اعظم کو چیلنج کرتا ہو ں پارلیمنٹ یا ٹی وی پر بحث کر لیں ، ہمارا وزیر اعظم بزدل ہے جواب دینگے ،وزیراعظم کی پہلے دن ، دوسرے دن ، دو ہفتے بعد اور تین ماہ بعد

بھی کورونا سے متعلق کوئی پلاننگ نہیں ہے،ریاست پاکستان کارگل کا کردار دہرا رہی ہے ،کارگل میں ہمارے سپاہیوں کو کھانا مہیا نہیں تھا ،جتنے لوگ مریں گے اتنا معیشت کو نقصان ہوگا۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خطاب کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ وزیراعظم کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ بجٹ سمیٹنے کی تقریر نہیں ،حکومت سمیٹنے کی تقریر کر رہے تھے۔ انہوںنے کہاکہ دنیا کا ایک بھی ملک نہیں جو کورونا کا مقابلہ کرسکتا ہے،امریکہ اور برطانیہ کی صحت کا نظام کورونا مسئلے کو نہیں سنبھال سکتے ،پاکستان کا صحت کا انفرسٹرکچر کیسے کورونا کے کرائسز کو سنبھال سکتا ہے،ہمارے وزیراعظم کی پہلے دن ، دوسرے دن ، دو ہفتے بعد اور تین ماہ بعد بھی کورونا سے متعلق کوئی پلاننگ نہیں ہے،ہمیں اپنے ٹیسٹ کے نظام کو بڑھانا تھا ،آج سب سے زیادہ کورونا کیسز سے ریکوری سندھ میں ہو رہی ہے ،ریجن میں سب سے زیادہ ٹیسٹ سندھ میں ہوئے،ڈبلیو ایچ او نے تمام صوبوں کو خط لکھا کہ دو ہفتے کا لاک ڈاؤن کریں ،اگر آئی ایم ایف کو خوش کرنا ہے قرضے واپس کرنے ہیں تو لاک ڈاؤن نہ کریں لیکن کوئی اقدامات اْٹھائیں ،اگر ہم کورونا سے لڑنے کے لیے تیار ہیں تو پھر ہمارے لوگ کیوں مر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آج وبا پھیل رہی ہے ہم ڈاکٹرز پیرا میڈکل سٹاف کو مراعات اور تنخوائیں دینے کو تیار نہیں ،آج یہ تقریر ہمارے لیے ،خواجہ آصف کے لیے نہیں تھی بلکہ سلیکٹر کیلئے تھی ،آپکی خارجہ پالیسی کمزور تھی ،آپ نے مودی کی انتخابی مہم چلائی ،

آپ نے کہا کہ مودی وزیراعظم بنے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا ،بھارت کو 184 ووٹ دینے ملت اور سلامتی کونسل کا ممبر کیسے بنا ،موجودہ حکومت نے جو سی پیک کیساتھ کیا وہ سب کے سامنے ہے،وزیراعظم کو لیکچر دینے کا شوق ہے لیکن خود لیکچر پر عمل کرنے کو تیار نہیں ،آج بھی وزیراعظم تقریر کرکے چلا گیا ،اگر بحث کرنی ہے تو ہمارا جواب دینا پڑیگا ،میں وزیراعظم کو چیلنج کرتا ہوں

پارلیمنٹ میں یا ٹی وی پر بحث کر لیں ،ہمارا وزیراعظم بزدل ہے جواب نہیں دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کا اپنا اکنامک سروے نیگٹو گروتھ بتاتا ہے ،لاک ڈائون سے پہلے بھی حکومت منفی گروتھ میں تھی ،لاکھوں گھروں کا وعدہ کیا جو پورا نہیں کر سکے ،اس لیئے کہتے ہیں کرونا کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بلاول بھٹو  نے کہاکہ جتنے لوگ مریں گے اتنا معیشت کو نقصان ہوگا

،ریاست پاکستان کارگل کا کردار دہرا رہی ہے ،کارگل میں ہمارے سپاہیوں کو کھانا مہیا نہیں تھا ،کرونا میں بھی پاکستان کا یہی حال ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاک چین دوستی کو سب سے ذیادہ نقصان عمران خان نے پہنچایا ،وزیر اعظم ہارا ہوا کٹھ پتلی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ٹڈی کی وجہ سے کسانوں کی فصلیں خطرے میں ہیں ،عوام کو لاوارث نہیں چھوڑ سکتے ،وزیراعظم ایس او پیز کا کہتے ہیں یہ بتائیں حکومت نے علاقائی زبانوں میں کتنی آگاہی مہم چلائی ،ایس او پیز کا عوام کو سمجھانا پڑیگا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…