جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کو شرمساری نہیں بلکہ اصل شرمندگی کس کیلئے ہے؟ جسٹس فائز عیسیٰ تو سرخرو  لیکن ان کے بیوی اور بچے پھنس گئے، تہلکہ خیز بات سامنے آ گئی

datetime 20  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جسٹس فائز عیسیٰ کیس کا 11 صفحات پرمشتمل مختصر فیصلہ سپریم کورٹ نے سنا دیا ہے، اس فیصلے پر نجی ٹی وی کے پروگرام تھنک ٹینک میں معروف صحافی ایاز امیر نے کہا کہ شہزاد اکبر احتساب الرحمان بننے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ ناکام ہوگئے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت اور ادارے ریفرنس دائر کرنے کا تاثر زائل نہیں کر سکے۔ ایاز امیر نے کہاکہ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تین فیصلوں میں جو ریمارکس دیے وہ اصل مشکل ہیں، ان کے دیے گئے فیصلے درد سر ہیں۔ جج صاحب کی بیوی نے اپنی جائیداد کے بارے میں کلیئر کر دیا ہے، ایاز امیر نے دوران پروگرام کہا کہ شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کو شرمساری نہیں ہوگی بلکہ اصل شرمندگی حکومت اور اداروں کے لئے ہے۔ پروگرام میں معروف صحافی سلمان غنی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ہدف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نہیں تھیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہدف تھے، بیوی اور بچے پھنس گئے ہیں اور جج صاحب سرخرو ہوگئے ہیں، سلمان غنی نے کہا کہ فروغ نسیم او ر شہزاد اکبر تحریک انصاف کے چہرے نہیں، حکومت اور اداروں کے لئے شرمندگی ہوئی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سرخرو ہو گئے ہیں، منی ٹریل آ گئی ہے۔ ماہر سیاسیات ڈاکٹر سید حسن عسکری نے کہاکہ ریفرنس ختم ہو گیا ہے اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جائیداد کی سکروٹنی ہو گی، وہ جائیداد کے ثبوت دیں گی، اگر فیصلہ حق میں آ گیا تو ٹھیک، اگر خلاف آتا ہے تو ایف بی آر سپریم جوڈیشل کونسل کو بتائے گی، ڈاکٹر سید حسن عسکری نے کہا کہ اس میں قانونی پیچیدگیاں بھی ہیں، یہ معاملہ اتنی جلدی اور آسانی سے حل نہیں ہونے والا ہے، جج صاحب کا اصل معاملہ طے ہوگیا ہے، ججوں اور سیاستدانوں کا معاملہ مختلف ہے، حکومت نے جج صاحب کا معاملہ بھی سیاستدانوں کی طرح ٹریٹ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…