جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

جسٹس فائز عیسیٰ کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے تھا،اگر میں ان کا وکیل ہوتا تو لاتعلقی کر لیتا،اعتزاز احسن کا فیصلے پر ردعمل

datetime 20  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)معروف قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے اثاثوں کے حوالے سے معاملہ ابھی حل طلب ہے۔ایک انٹرویومیں انہوںنے کہاکہ عدالت نے کس اختیار کے تحت فیصلہ ایف بی آر کے حوالے کیا؟ یہ سمجھ سے باہر ہے۔ عدالت کے پاس معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا اختیار نہیں تھا۔

ایف بی آر پر کسی قسم کی قدغن لگانا قانون کے تحت نہیں ہے۔بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت نے اس معاملے کو دوبارہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور راستے سے بھیجنے کا امکان پیدا کر دیا ہے، سپریم کورٹ کے پاس سپریم جوڈیشل کونسل کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے افتخار محمد چودھری کے کیس میں سپریم کورٹ سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کالعدم کروائی۔ ان کے ریفرنس کو حکومت کی جانب سے کسی نے پڑھا تک نہیں تھا، میں نے سپریم کورٹ کے سامنے یہ ثابت کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کالعدم قرار دئیے جانے والے جسٹس فائز عیسیٰ کے ریفرنس میں کوئی سقم نہیں تھا،سقم نہ ہو تو ریفرنس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو فیصلے کا حق ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ 2010ء کے بعد سے کوئی بھی پاکستانی ججز کے خلاف ریفرنس دائر کروا سکتا ہے، ریفرنس کالعدم قرار دینے کے لیے جو ٹھوس شواہد ضروری تھے وہ عدالت کو حاصل نہیں تھے۔اعتزاز احسن کا پروگرام کے دوران گفتگو میں کہنا تھا کہ حکومتی دلائل کے دوران جسٹس فائز عیسیٰ کے اچانک عدالت حاضر ہو جانے سے متعلق عدالت کو فیصلے میں کچھ لکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ جج صاحب کو ازخود اپنے لیے عدالت میں پیش ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل کو انہیں از خود عدالت میں پیش ہونے سے روکنا چاہیے تھا،اگر میں جسٹس فائز عیسیٰ کا وکیل ہوتا اور وہ ازخود عدالت میں حاضر ہوتے تو میں لاتعلقی کر لیتا،جوڈیشل کنڈکٹ کے تقاضوں کا پورا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے ازخود سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو کر غلطی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…