جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

چین بھارتی تصور پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے قبول کرے گا، چینی پروفیسر کادھماکہ خیز بیان

datetime 20  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز نے چین – بھارت سرحد پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور تنازعہ میں شدت کے خطرات کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کیلئے چین بھارت اسٹینڈ آف: علاقائی سلامتی کے لئے مضمرات کے عنوان سے ایک ویبنار کا انعقاد کیا۔ اس سیشن کی صدارت ائیر چیف مارشل کلیم سعادت (ریٹائرڈ) نے کی۔ اکانومسٹ میگزین کے ایڈیٹر برائے دفاعی امور مسٹر ششانک جوشی ،

فوڈان یونیورسٹی سے پروفیسر شین ڈنگ لی ، سابق سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی اور سابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے صدرنے گفتگو کے آغاز میں چین – بھارت سرحد پر موجودہ صورتحال کا ایک جائزہ فراہم کیا اور مزید تنازع پر تشویش کا اظہار کیا۔ مسٹر ششانک جوشی نے حالیہ بحران کے حوالے سے کہاکہ تنازع کی سنگینی اور موجودہ صورتحال چین اور بھارت دونوں کی توقعات کے برعکس ہے اور موجودہ حالات دونوں ممالک کی طرف سے معاہدات کی پاسداری نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے اس تنازع کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی تاریخ کا ایک سنگ میل قرار دیا۔ پروفیسر شین ڈنگ لی نے چینی موقف پیش کرتے ہوے کہاکہ چین کسی جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور وہ تنازعہ کو مزید بڑھانا نہیں چاہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین لائن آف ایکچول کنٹرول کے بارے میں بھی بھارتی تصور پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے قبول کرے گا۔ انہوں نے پاک چین مضبوط تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ جنرل لودھی نے اس بحران کی فوجی اور آپریشنل اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق یہ تصادم بظاہر ابھی ٹیکٹیکل سطح پر ہے لیکن اس کے نتائج اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے لئے بھی ممکنہ خطرات کی وضاحت کی۔ سابق سفیر اور ڈائریکٹر سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز

جلیل عباس جیلانی نے چین – بھارت تعلقات کی تاریخ کی روشنی میں موجودہ بحران کے محرکات پر اظہار خیال کیا۔ائیر چیف مارشل کلیم سعادت (ریٹائرڈ)نے اختتامی کلمات میں بالاکوٹ بحران کے دوران چین اور پاکستان کے بارے میں ہندوستانی ردعمل کا موازنہ انہوں نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت بہرحال اپنی ہزیمت چھپانے کیلئے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش میں ، بھارت نے اس بحران میں خود کو تنہا کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…