اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کو حیران کن ریلیف دیدیا

datetime 17  جون‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ نیب انکوائری میں مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 29 جون تک توسیع کر دی،عدالت نے شہباز شریف کو ضمانتی مچلکوں پر بھی 29 جون کو دستخط کرنے کی ہدایت کر دی ۔

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس طارق عباسی پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے محمد شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار کی جانب سے امجد پرویز ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ نیب کی طرف سے سید فیصل رضا بخاری نے تفصیلی رپورٹ اور جواب جمع کروا دیا۔شہباز شریف کے وکیل کی جانب سے فاضل عدالت کو بتایا گیا گیا کہ شہباز شریف کے ضمانتی مچلکے جمع کروائے جا چکے ہیں مگر ان پر شہباز شریف کے دستخط ہونا باقی ہیں، 11 مئی کو شہباز شریف نے ضمانتی مچلکوں پر دستخط کیلئے ہائیکورٹ پیش ہونا تھا مگر کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر پیش نہیں ہو سکے۔کرونا وائرس کے باعث شہباز شریف نے خود کو گھر میں آئیسولیٹ کر رکھا ہے۔دوران سماعت جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ نیب کو کوئی اعتراض ہے کہ شہباز شریف کرونا کی وجہ سے پیش نہ ہوں؟ جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ کرونا وائرس ہے نیب کو کوئی اعتراض نہیں۔ جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ ڈاکٹرز نے شہباز شریف کو کیا مشورہ دیا ہے۔ جس پر شہباز شریف کے وکیل نے معزز عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹرز کے مطابق مسلسل 2 ٹیسٹ منفی آنے کے بعد مریض کو قرنطینہ سے نکالا جائے۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ شہباز شریف عام آدمی نہیں ہیں تو کیوں ضمانتی مچلکے جمع نہیں کروائے گئے، 2 منٹ ہائیکورٹ بھی رہ جاتے، گھر سے نکل آئے تھے ، اتنے لوگوں میں آ گئے تھے تو رک جاتے۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کیلئے 7 دن کا وقت دیا تھا، فاضل عدالت کوئی نمائندہ مقرر کر دے تا کہ شہباز شریف کے ضمانتی مچلکوں پر دستخط ہو سکیں،خصوصی نمائندے کے جانے کے ہر طرح کے اخراجات ادا کرنے کو تیار ہیں۔جسٹس عالیہ نیلم نے کہا ہے کہ کرونا وائرس ہے اور پیسے تو کسی کو ٹھیک نہیں کر سکتے۔ شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ فاضل عدالت جو مناسب سمجھے وہ حکم جاری کر دے۔بعد ازاں فاضل عدالت نے کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے باعث شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست میں حاضری سے استثنیٰ اور عبوری ضمانت میں 29جون تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…