پی آئی اے کیساتھ سٹیل مل فری ،ملازمین کو فارغ کرنے کے حکومتی فیصلے پر تنقید ، سوشل میڈیا صارفین نے مفتاح اسماعیل کوآڑے ہاتھوں لے لیا

  جمعرات‬‮ 4 جون‬‮ 2020  |  15:04

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ن لیگی رہنما اورسابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی پاکستان سٹیل ملز کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کے حکومتی فیصلے پر تنقید جبکہ خود ماضی میں پاکستان سٹیل مل مفت دینے کا اعلان کرتے رہے،تفصیلات کے مطابق مفتاح اسماعیل ن لیگی حکومت میں وزیر خزانہ رہے، پانچ سال انکی حکومت رہی۔لیکن نہ تو سٹیل مل خسارے سے نکل سکی بلکہ ن لیگ حکومت نے پاکستان سٹیل مل کو ہی بند کردیا تھا اور ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں لیتے رہے۔مفتاح اسماعیل جب وزیر خزانہ تھے تب انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ حکومت پاکستان سٹیل مل اور پی


آئی اے چلانے میں ناکام رہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مفتاح اسماعیل یہ بھی اعتراف کرتے رہے کہ وہ پانچ سال تک پی آئی اے میں ڈائریکٹر رہے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی کہ پی آئی اے نقصان کیوں کررہی ہے۔مفتاح اسماعیل جب وزیر خزانہ تھے تو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی پی آئی اے خریدے گا تو سٹیل مل مفت دیں گے ،پی آئی اے کے قرضے ادا کرنےوالےکوسٹیل ملز مفت میں دی جائے گی، واجبات ادا کریں ،پاکستان سٹیل مفت میں لے جائیں۔ پاکستانی قوم کاپیسہ تنخواہوں پرضائع کیاجارہاہے۔ حکومت پاکستان سٹیل مل کو اپنے پاس کیوں رکھے بہتر ہے کہ اسے کسی کو دے دیا جائے۔مفتاح اسماعیل آج سٹیل مل پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں لیکن اپنا وقت بھول گئے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے انکے پرانے بیانات چلاکر یاددہانی کرادی کہ وہ ماضی میں کیا کہتے رہےہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎