13 مارچ سے ملک بھر میں لاک ڈائون سے شادی ہالز میں کام کرنے والے 20، 30،50 لاکھ نہیں بلکہ کتنے لاکھ افراد بے روزگار ہو گئے ؟ عید پر کپڑے نصیب نہیں ہوئے ، پاکستان میں کسی کو حکومتی 12000نہیں لے ، سفید پوشی کی انتہا ، افسوسناک انکشافات سامنے آگئے

  بدھ‬‮ 3 جون‬‮ 2020  |  23:21

حیدرآباد(این این آئی)حیدرآباد شادی ہالز اینڈ لانز ایسوسی ایشن نے قومی رابطہ کمیٹی کی طرف سے شادی ہالز اینڈ لانز نہ کھولنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 13 مارچ سے ملک بھر میں لاک ڈائون کو کامیاب بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے شادی ہالز اینڈ لانز بند کردئیے گئے تھے جو تاحال آج تک بند ہیں، تمام شادی ہالز مالکان نے 13 مارچ سے آج تک شادی ہالز بند کئے ہوئے ہیں، حیدرآباد شادی ہالز اینڈ لانز ایسوسی ایشن کے صدر جمال عارف سہروردی نے کہا کہ اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں میں رجسٹرڈ شادی ہالز


اینڈ لانز کی تعداد تقریباً 14000 سے زائد ہے جس میں 40 لاکھ ویٹر اور 60 لاکھ افراد شادی ہال سے منسلک روزگار حاصل کرنے والے افراد بے روزگار ہوگئے ہیں مسلسل لاک ڈائون کی وجہ سے دیہاڑی پر کام کرنے والے ویٹرز بھوک افلاس کا شکار ہیں عید پر ان کے بچوں کو نئے کپڑے نصیب نہیں ہوئے، انہوں نے کہا کہ ویٹروں کا معاشی قتل عام بند کیا جائے شادی ہالز اینڈ لانز کھولنے کی فوری اجازت دی جائے انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والوں نے ویٹروں کو بھوک افلاس اور موت کے علاوہ کچھ نہیں دیا اربوں روپے کی امداد کہاں گئی کسی ویٹر کو پاکستان کے کسی بھی حصے میں 12000 روپے نہیں ملے جوکہ سراسر دانستہ حقائق سے چشم پوشی ہے انہوں نے کہا کہ سفید پوش افراد کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے انہوں نے کہا کہ ریاست کا کام ہے لوگوں کو روزگار مہیا کرنا اور قدرتی آفات کے حوالے سے ان کی مالی مدد کرنا لیکن پاکستان میں ایسا ناممکن ہے انہوں نے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ اللہ تعالیٰ روزی دیتا ہے روزی رازق کے ہاتھ میں ہے وہی انسان کی ضرورت پوری کرتاہے میں وطن کی سالمیت کے نام پر حکومت سے کہتا ہوں کہ وہ فوری طور پر شادی ہالز اینڈ لانز کھولنے کے احکامات صادر فرمائیں تاکہ ویٹر اور شادی ہالز سے منسلک افراد اپنا پیٹ پال سکیں جب ٹرینیں چل سکتی ہیں مارٹ کھل سکتے ہیں بازار کھل سکتے ہیں تو شادی ہالز کیوں نہیں کھل سکتے شادی ہال میں تو SOP's پر عمل ہوسکتا ہے لیکن بازاروں میں مارٹ میں شاہراہوں پر ریلوے پر SOP's پر عمل نہیں ہوسکتا شادی ہالز میں ایک ٹیبل پر چار افراد کو بٹھائیں گے اور جہاں ہزار افراد کی تعداد ہوتی تھی وہاں 300 افراد کی تعداد ہوگی سینٹائزر گیٹ تمام شادی ہالوں کے مین گیٹ پر نصب کئے جائیں گے تاکہ SOP's پر مکمل عمل درآمد ہوسکے شادی ہالز اینڈ لانز ایک بڑھی ہوئی صنعت ہے جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے ان لوگوں کے روزگار کو بچانے کے لئے میں ایک بار پھر کہتاہوں کہ شادی ہالز اینڈ لانز فوری طور پر کھولے جائیں انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبہ کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں وہ فوری طور پر حیدرآباد کراچی سمیت سندھ کے تمام ڈویثرن میں شادی ہالز اینڈ لانز پر پابندی ختم کریں تاکہ ویٹرز اور ہال سے منسلک افراد کو روزگارمہیا ہوسکے ۔ جمال عارف سہروردی نے کہا کہ عوام پریشان ہے ان کی پریشانی کا مداوا کیا جائے ۔شادی ہالز اینڈ لانز کی انتظامیہ کو حکومت نے مایوس کیا ہے ۔


موضوعات: