’’ ان کی بات چیت چل رہی تھی باقاعدہ کابینہ تشکیل دے تھا کابینہ کے نام فائنل ہو رہے تھے پھر۔۔شہباز شریف نے سہیل وڑائچ اور جاوید چودھری سے گفتگو میں کیا کہا تھا ؟ سینئر تجزیہ کار نے حیرت انگیز انکشاف کر دیا

  بدھ‬‮ 3 جون‬‮ 2020  |  16:04

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر نیب کسی شخص کی عدالتی احکامات یا کسی کے عدم تعاون ، غیر حاضری کی وجہ سے تفتیش مکمل نہیں کر سکتا تو پھر کیسے منطقی انجام تک پہنچے گا ۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ارشاد احمد عارف نے کہا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں نیب کے کچھ مقاصد ہونگے ، ایک ملزم یا مجرم کا حق ہوتا کہ قانون کا سہارا لے ۔ میرا خیال ہے شہباز شریف نیب کو لکھ کر دے چکے ہیں کہ وہ آئسولیشن میں ہیں شاید اس لیے


نیب والوں نےان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ، اس سے کیس مضبوط ہو جائے گا ، پہلے تو انہوں نے گرفتاری کا شبہ ظاہر کیا تھا لیکن بات یقینی ہو گئی ہے کہ نیب انہیں گرفتار کرنا چاہتا ہے اس کے مقاصد درست نہیں ، شاید انہیں ریلیف مل جائے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ مقتدار حلقوں کے حوالے سے میں نہیں کہہ رہا میں تو ایک تاثر کی بات کی ہے ، شہباز شریف نے سہیل وڑائچ کے ساتھ گفتگو میں خود کہا تھا کہ ان کے بات چیت چل رہی تھی باقاعدہ کابینہ تشکیل دے تھا کابینہ کے نام فائنل ہو رہے تھے پھر شہباز شریف جاوید چودھری کیساتھ انٹرویو میں تسلیم کیا کہ میرے بات چیت ہوئی تھی ۔


موضوعات: