کراچی طیارہ حادثہ ، زخمی تین  بچیوں میں سے ایک  جان بحق ہو گئی 

  بدھ‬‮ 3 جون‬‮ 2020  |  0:08

کراچی (آن لائن) کراچی طیارہ حادثہ میں جھلس کر زخمی ہونی والی تین گھریلو ملازمہ بچیوں میں سے ایک ناہیدہ جانبحق ہوگئیں،2 بچیاں ماریہ ،عزیزہ زخمی حالت میں سول اسپتال برنس وارڈ میں زیر علاج پی ٹی آئی مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ، رکن سندھ اسمبلی کراچی ڈویزن کے صدر خرم شیر زمان، ،ایم پی اے دعا بھٹو، پی ٹی آئی رہنما عمران صدیقی، رہنما آفتاب قریشی، یاسر بلوچ اور و دیگر پی آئی اے افسران کے ہمراہ سول اسپتال برنس سینٹر پہنچے پی ٹی آئی رہنمائوں نے دونوں زخمی بچیوں کو پی آئی اے کی جانب پانچ


 پانچ لاکھ کیش معاوضہ دیا جانبحق ہونے والی ناہیدہ کے ورثآ کو کل دس لاکھ روپے کیش معاضہ دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا جہاز حادثے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جا? گا اور اس سانحے میں جن کا کوئی نقصان ہوا ہے وہ رابطہ کریں، ہم تدارک کروائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں جعلی ڈومیسائل میں سندھ حکومت ملوث ہے ہم اگے بھی آواز اٹھا ئیں گے ڈومیسائیل کے معاملے پر سندھ کی عوام کے حق پر کسی کو ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے۔ ڈومیسائل میں ہمارا ویو سامنا آچکا ہے،  سندھ پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کی تباہی ہو رہی ہے، وزیر اعظم سے کسی ایم این اے کو خصوصی فنڈ نہیں ملا ہے، سندھ کی اسکولوں میں بھینس باندھ رکھی ہے سندھ کے اسکول جانوروں کی آماجگاھ بن چکے ہیں۔  سندھ حکومت نے کورونا کورونا مچا رکھا ہے کام نہیں کر رہے صرف عوام میں خوف پھیلایا جاتا ہے۔ سندھ میں تعلیم صحت سمیت عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں، سندھ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے آج سندھ کے محکمے تباہ ہوچکے ہیں، وزیر اعلیٰ نے پیپلزپارٹی کے سربراہوں کی کرپشن کے لئے پل کا کردار ادا کیا ہے 12 سالوں سے خزانے کی کنجی وزیر اعلیٰ کے پاس تھی، وزیر اعظم نے 1200ارب کا پیکج دیا ہے سندھ حکومت نے کیا دیا راشن کی جگہ عوام کو بھاشن دیا گیا ہے۔ وزیر صحت گمشدہ ہیں سول اسپتال تباہ ہے سندھ میں اسپتالوں میں کتے کی ویکسین تک میسر نہیں ہے۔ کراچی ڈویزن کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا کہ طیارہ حادثہ میں فوتی اور زخمیوں کو بیس لاکھ روپے مجموئی طور پر دیئے  جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا نجی ہسپتال میں کرونا کے پیسے لیے جا رہے ہیں. وزیرصحت غائب ہے. حکومت کی زمیداری ہے کے صحت کی سہولیات دیں جائیں. کب تک سندھ کے لوگ کتے کاٹنے کی وجہ سے مریں گے؟ ہسپتالوں میں دوائیاں موجود نہیں ہے. سول اسپتال میں مریض بھیجنے کے لئے بھی سفارش کروانی پڑتی ہے۔ دوسرے صوبوں میں کتے کی ویکسین اور اسپتال  میں علاج کے لئے کسی کی سفارش نہیں کروانی پڑتی ہے۔ سندھ میں محکمہ صحت تباہ ہوچکا ہیمریض اور ڈاکٹر دونوں پریشان ہیں۔ سندھ حکومت نے کیوں نہیں کراچی کے دیگر اضلاع میں آئیسولیشن کھولے ہیں؟ وزیر اعلیٰ کی وجہ سے کیسز بڑھ گئے ہیں ہماری نہیں سنی گئی جس کی وجہ سے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے کہا تھا رمضان میں رات 12 بجے تک مارکیٹیں کھولی جائیں نہیں کھولی گئی جس کی وجہ سیرش ہوئی اور کیسز میں اضافہ ہوا ہے ایس او پیز پر بھی عمل نہیں کروایا گیا۔ غلط فیصلوں کی وجہ سے وزیر اعلیٰ ذمہ دار ہیں۔12 سالوں میں سندھ میں پیپلپزپارٹی کی حکومت ہے کراچی دور کی بات لاڑکانہ کی عوام رو رہی ہے کوئی بھی کام نہیں کیا گیا ہے عوام پریشان ہے۔


موضوعات: