بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کم از کم اس  وائرس کیساتھ کتنا عرصہ گزارنا پڑ ے گا ؟ وزیراعظم عمران خان نے خبر  دار کر دیا 

datetime 1  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کم از کم اس سال تو ہمیں وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کم از کم اس سال تو ہمیں وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ امیرملکوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کیا، پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کورونا وائرس پھیلے گا، ۔ انہوںنے کہاکہ پیسے والے لوگ ایس اوپیز پر

عمل کررہے ہیں عام آدمی کا مختلف رویہ ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ پیسے والے لوگ تو ایس اوپیز پر عمل کررہے ہیں لیکن عام آدمی کا کورونا کے حوالے سے مختلف رویہ ہے، اس حوالے سے ٹائیگرفورس کے رضاکار لوگوں میں شعور دیں گے کہ کس طرح کورونا کیساتھ رہنا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت میں مکمل لاک ڈاؤن کیا گیاتو وہاں عوام کا برا حال ہوگیا، کافی لوگ مرگئے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مکمل لاک ڈاؤن کیا تو وہاں عوام کا برا حال ہوگیا، کافی لوگ مرگئے انہیں میلوں پیدل چلنا پڑا لیکن پھر بھی وہاں کورونا وائرس پھیلا اور ہسپتال بھر گئے اور انہیں معاشی حالات کے باعث ملک کھولنا پڑا، میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ وائرس کے پھیلاؤ اور اموات میں اضافہ ہوگا اس لیے عوام جتنا احتیاط کریں گے ان کے لیے اتنا بہتر ہے۔و زیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس طرح کا لاک ڈاؤن ہوا میں اس طرح کا لاک ڈاؤن نہیں چاہتا تھا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح کا لاک ڈاؤن ہوا میں اس طرح کا لاک ڈاؤن نہیں چاہتا تھا، ہم اجتماعات، تقریبات، کھیلوں، اسکولوں،جامعات سمیت ہر چیز پر پابندی لگا دی تھی لیکن میں کاروبار اور تعمیرات کی صنعت کبھی بند نہیں کرتا لیکن 18ویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں کے پاس اختیارات تھے، صورتحال کی وجہ سے صوبوں پر دباؤ تھا لیکن جس طرح کا لاک ڈاؤن ہوا اس نے ہمارے نچلے طبقے کو بہت تکلیف پہنچائی۔انہوں نے واضح کیا کہ کورونا وائرس جانے نہیں لگا بلکہ جب تک ویکسین نہیں بنتی، ہمیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہو گا، ساری دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے اور امریکا جیسا دنیا کا امیر ترین ملک جہاں ایک لاکھ لوگ مر چکے ہیں، انہوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…