بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

’’حیران ہوں پی ٹی وی دوسرے ممالک کے ڈرامہ پر فخر محسوس کر رہا ہے ‘‘ فواد چوہدری کا ڈرامہ ارطغرل غازی کے خلاف بیان ، سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی

datetime 31  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا شہرہ آفاق ترکش ڈرامہ ارطغرل غازی کے خلاف بیان سامنے آیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کیا گیا جس میں انہوں نے ارطغرل غازی نشر کرنے کی مخالفت کی۔فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ

حیران ہوں کہ پی ٹی وی دوسرے ممالک کی پروڈکشن پر فخر محسوس کر رہا ہے، آپ لوگوں کو پاکستان کی پروڈکشن پر توجہ دینی ہوگی، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو دیگر غیر ملکی ڈرامے پاکستان کی پروڈکشن کو برباد کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ڈراموں کو درآمد کرنا ہمیشہ ہی سستا ہے لیکن یہ طویل عرصے تک ہماری پروگرامنگ پر تک تباہ کن اثر ڈالتا ہے۔فواد چوہدری کے اس بیان پر ایک صارف کی جانب سے کمنٹ کیا گیا کہ پی ٹی وی کوارطغرل غازی کی طرح کا ڈرامہ تیار کرنے دیں، کیا وہ یہ کر سکتے ہیں۔صارف کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہاں کیوں نہیں۔خیال رہے کہ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اس سے قبل ترکش ڈرامہ ارطغرل غازی کی حمایت میں متعدد ٹوئٹس کیے تھے۔فواد چوہدری سے قبل کئی فنکار جن میں ریما اور شان بھی شامل ہیں، ارطغرل غازی کو نشر کرنے کی مخالفت کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…