بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

باپ سبسڈی دے رہا تھا بیٹے وصول کر رہے تھے، سرکاری ٹھیکیداران کے فرنٹ مینوں کے اکائونٹس میں اربوں ڈال رہے تھے،لیگی قیادت لندن میں بنائی ہوئی پراپرٹی کا اشتہار دے، تحریک انصاف کا ن لیگ کو دھماکہ خیز جواب

datetime 27  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گِل نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ملکی دولت لوٹ کر لندن میں جو پراپرٹی بنائی ہے اس کی واپسی کا اشتہار دیں۔شہباز گِل نے مریم اورنگزیب کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی سیاست کا مقصد عوام کی دولت لوٹنا اور اپنی جیبیں بھرنا تھا،

سات سات گھر کیمپ آفس بنا کر قومی خزانے سے چل رہے تھے اور رانا مشہود جیسے وزیر مال اکٹھا کرکے ان کو پہنچا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ان کی فرسٹریشن کے پیچھے بہت لمبی کہانی ہے، موجیں لگی ہوئی تھیں، مال بن رہا تھا، ٹی ٹی لگ رہی تھیں۔شہباز گل نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ باپ سبسڈی دے رہا تھا بیٹے وصول کر رہے تھے، سرکاری ٹھیکیداران کے فرنٹ مینوں کے اکائونٹس میں اربوں ڈال رہے تھے، ٹی ٹی کے پیسے سے بیگمات کے لیے ولاز خریدے جارہے تھے، سرکاری فنڈرسے ذاتی شوگر ملزکیلیے انفراسٹرکچر بن رہے تھے اور لندن میں نابالغ بچوں کے نام پر جائیدادیں بن رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ اونٹوں پر ڈالر اور ریال سعودیہ سے قطر اور قطر سے لندن جارہے تھے، بخار کی دوائیں بھی لندن سے آرہی تھیں جبکہ عیدیں، شبراتیں سرکاری خرچ پر لندن میں ہو رہی تھیں، مودی اور جندال کے ساتھ کاروبار چل رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…