پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

میرے اثاثوں کی تحقیقات بھی 71 سے ہونی چاہئیں،احتساب کے قوانین میں ترمیم نہیں ہونی چاہیے، غلام سرور خان نے خود کو احتساب کے لئے پیش کر دیا

datetime 27  مئی‬‮  2020 |

ٹیکسلا (آن لائن) وفاقی وزیرایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ احتساب سے خوف زدہ نہیں،احتساب کا عمل جاری رہنا چاہئے، میرے اثاثوں کی تحقیقات بھی 71 سے ہونی چاہئیں،احتساب کے قوانین میں ترمیم نہیں ہونی چاہیے،حکومتی زعما ء سمیت اپوزیشن کے لوگ بھی اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کریں، جن لوگوں نے اس ملک کو35 سالوں سے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ان کا کڑا احتساب ہونا چاہئے، طیارہ حادثہ تحقیقات انتہائی قلیل وقت میں مکمل کی جائیں گی،

ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہوگی،دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں کرونا سے اموات کی شرح کم ہے اضافہ سے بچنے کے لئے حکومتی احکامات پر عمل ناگزیر ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کی طیارہ حادثہ تحقیقات جلد سے جلد مکمل کی جائیں۔نیب کے حوالے سے اپنے اثاثہ جات کی تحقیقات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اسمبلی فلور پر کہا تھا میں نے سیاست کو ہمیشہ خدمت سمجھ کر کیا،دامن صاف ہے، میری تحقیقات تو 71 سے ہونی چاہئیں کیونکہ میدان سیاست میں ایک عرصہ گزر گیا ہے،انکا کہنا تھا کہ احتساب سے کوئی مبرا نہیں تمام کابینہ کے ممبران،حکومتی ذمہ داران اعلیٰ سرکاری افسران اور اپوزیشن سے وابستہ افراد کو بھی احتساب ہونا چاہئے،ان کرپٹ لوگوں کو تو کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہئے جنہوں نے اس ملک کو 35 سالوں سے لوٹا،انکا کہنا تھا کہ میں اس حق میں ہوں کی احتساب ایک مسلسل عمل ہے،جو ہر صورت جاری رہنا چاہئے،اور اس میں کسی قسم کی ترامیم بھی نہیں ہونی چاہئیں،انھوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو اس ملک کو سب سے بڑا نقصان ان دو نمبر کاروبار کرنے والوں نے پہنچایا ہے،احتساب اکراس دی بورڈ جاری رہنا چاہئے، میرا دامن صاف ہے جس نے بھی میرے خلاف اس اشو کو اٹھایا ہے اسے کچھ حاصل ہونے والا نہیں،انکا کہنا تھا کہ علاقہ کی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا، ٹیکسلا چوک تا فاروقیہ روڈ کو دو رویہ کرنے کے میگا پروجیکٹ میں ایک ارب سے زائد رقم صرف ہوگی،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ٹیکسلا کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے، واہ جنرل ہسپتال کو ڈسٹرکٹ ہسپتال کا درجہ دینے کے لئے کوشش جاری ہے،انکا کہنا تھا کہ کرونا وبا کے پھیلاو کو روکنے لے کے لئے شہریوں کو ایس او پیز پر عمل کرنا چاہئے، تاکہ اس وبا سے جلد سب لوگ محفوظ رہیں، سماجی فاصلوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے معمولات زندگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…