کرونا وائرس،ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا، انتہائی دھماکہ خیز بات کر دی گئی

  بدھ‬‮ 27 مئی‬‮‬‮ 2020  |  18:19

کراچی (این این آئی)بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین وسابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) سراج قاسم تیلی نے حکومت پر زور دیاہے کہ لاک ڈاؤن مکمل طور پر ختم کردیا جائے تاکہ تمام اقسام کے کاروبار اور صنعتیں بھرپور طریقے سے دوبارہ اپنا کام شروع کرسکیں۔انہوں نے حکومت کو فوج تعینات کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ فوج کی موجودگی اور گشت سے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے وضع کیے گئے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ایک بیان میں سراج تیلی


نے کہاکہ پاکستان کی معیشت شدید بحرانوں کا شکار ہے اور ملک مزید نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا لہٰذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ وائرس کی موجودگی میں زندگی کی طرف واپس لوٹتے ہوئے معمول کے مطابق تمام کاروبار شروع کئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف ہمیں کرونا کے وبائی مرض پر قابو پانا ہے لیکن دوسری طرف ہمیں پہلے سے بیمار معیشت کوبھی بچانا ہے لہٰذا محب وطن اور نظم وضبط پر عمل پیرا فوجیوں کو لازمی طور پر ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے اور معیشت کو مزید بحرانوں سے بچانے کے لیے فوج کو بلانے کو اولین ترجیح دی جائے۔انہوں نے کہاکہ فوج کی نگرانی میں کاروبار دوبارہ کھولنے سے کاروبار کو مکمل تباہ ہونے سے بچانے اور عوام کو بھوک و افلاس، غربت اور بے روزگاری سے بچانے میں مدد ملے گی۔چیئرمین بی ایم جی نے 23مارچ سے لاک ڈاؤن کے بعد سے وفاقی وصوبائی حکومتوں کے مختلف قدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کورونا وبا کی روک تھام کے لیے شاندار اقدامات کیے جو قابل تعریف ہیں لیکن بدقسمتی سے پورے ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے کیونکہ عوام اور تاجربرادری نے نظم وضبط کے فقدان کی وجہ سے ایس اوپیز پر عمل درآمد کو یکسر نظر انداز کردیا۔انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان دنیا بھر میں اپنے نظم وضبط کی وجہ سے مشہور ہیں لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ فوج ملک کو بچانے اور عوام کو نظم وضبط کی پابندی کرنے کی ترغیب دینے کے لیے آگے آئے کیونکہ وطن عزیز کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے ایس اوپیز پر عمل درآمد کرواناہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ کرونا وائرس کہیں نہیں جارہا اور ہمیں اس کے ساتھ رہتے ہوئے نظم وضبط کے ساتھ اپنے کاروبار کو جاری رکھنا ہے۔ ہم لاک ڈاؤن میں ہمیشہ نہیں رہ سکتے لہٰذا ہمیں نظم وضبط کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ لاک ڈاؤن کو فوری طور پر ختم نہیں کیا تو گزشتہ دو ماہ سے جو کاروبار بند ہیں وہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے جس سے انتشار کی صورتحال پیدا ہوگی کیونکہ غربت اور بے روزگاری بڑھنے کی صورت میں عوام کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ برآمدی صنعتوں اور اشیائے خورونوش کی تیاری میں مصروف عمل صنعتوں کے سواء تمام مقامی صنعتیں اور ریستوران جن میں سیکڑوں اور ہزاروں ورکرز کام کرتے ہیں بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے ان کاروباروں سے وابستہ افراد اپنا کاروبار ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا سوچ رہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تویہ کرونا وائرس کے مہلک مرض سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوگا اور ایسی صورتحال میں لوگ بطور احتجاج سڑکوں پر آجائیں گے جس سے امن وامان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں لہٰذا حکمت کو سمجھداری سے کام لینا ہوگا اور فوج کی تعیناتی پر توجہ دینا ہوگی۔سراج تیلی نے امید ظاہر کی کہ حکومت کاروباری وصنعتی طبقے کو درپیش مسائل اور موجودہ مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے معیشت کو مزید بحرانوں سے بچانے کے لیے لاک ڈاؤن کو مکمل طور پر ختم کردے گی اس کے علاوہ جلد از جلد فوج کی تعیناتی یقینی بنائی جائے گی تاکہ کورونا کے مہلک مرض پر قابو پانے کے لیے ایس اوپیز پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنایاجاسکے۔


موضوعات: