بیٹی صرف خیریت سے پہنچنے کا فون کردے ، ائیر ہوسٹس انعم کی والدہ کے نہ رکنے والے آنسوئوں سے رقت آمیز مناظر

  ہفتہ‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2020  |  14:27

لاہور(این این آئی) ائیر ہوسٹس انعم کی والدہ ابھی تک اپنی بیٹی کے حوالے سے کسی طرح کی افسوسناک خبر سننے کے لئے تیار نہیں اور ان کے نہ رکنے والے آنسوئوں سے انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ انعم کی والدہ اور گھر والوں کا کہناہے کہ اس کا فہرست میں نام نہیں اور ابھی تک کچھ معلوم نہیں ۔ انعم کی والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ روانگی سے قبل فون کرتی اور پھر منزل پر پہنچ کر خیریت سے پہنچنے کا موبائل میسج ضرور کرتی تھی ۔بیٹا صرف خیریت سے پہنچنے کا فون


کر دے ۔ انہوں نے کہا کہ انعم زخمی ہے وہ گھر واپس آئے گی ، اللہ تعالیٰ سب کو صحت دے ۔انہوںنے کہاکہ انعم نے گزشتہ ہفتے امریکہ فلائٹ کینسل کی تھی وہ عید پاکستان میںمنانا چاہتی تھی ۔انعم کے والد اور دیگر اہل خانہ شناخت کیلئے کراچی پہنچ گئے ہیں ۔اس موقع پر انعم خان کے والد مسعود خان کا کہنا تھا انعم خان میری بیٹی نہیں بیٹا تھی، جب میں یا اس کی ماں بیمار ہوتی تھی تو وہ بیٹوں کی طرح ہمارا خیال رکھتی ، علاج کراتی ،چھوٹے بھائی اور دو چھوٹی بہنوں کا بھی خیال رکھتی ۔بھائی حمزہ کا کہنا تھا اس کو ابھی بھی بہن کے فون کا انتظار ہے ۔بد قسمت طیارے کے کپتان سجاد گل کی رہائشگاہ پر بھی تعزیت کرنے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ سجاد گل کے والد حیات گل نے کہا کہ میر ابیٹا بہادر شخصیت کا مالک تھا، انجن فیل ہونے کے باوجود مسافروں کی جان بچانے کی سر توڑ کوششیں کیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎