ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ڈی جی وفاقی نظامت تعلیمات کی طرف سے سول سروسز کی دھجیاں اڑا دی گئیں، اپنی اہلیہ پر نوازشات، دھماکہ خیز انکشاف

datetime 18  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن ) ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن وفاقی نظامت تعلیمات ثاقب شہاب کی طرف سے سول سروسز کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی اہلیہ عاصمہ ثاقب کو کنٹریکٹ ملازم ہونے کے باوجود تعلیمی سال 2018میں 57دن کی بمعہ تنخواہ چھٹیاں دینے کے عمل کا انکشاف ہوا ہے، ثاقب شہاب کی اہلییہ ایک ہی وقت میں اے جی پی آر سے بطور ریگولر ملازم گریڈ 17کی تنخواہ وصول رہی ہیں جبکہ دوسری طرف ڈائریکٹر موصوف نے اپنی زوجہ کو رواں برس چھ ماہ کا نیا کنٹریکٹ دے کر محکمہ کو چکرا کر رکھ دیاہے۔

آن لائن نے عاصمہ ثاقب کی اے جی پی آر سے بطور ریگولر ملازم حاصل شدہ پے سلپ اور نئے کنٹریکٹ کا ریکارڈ حاصل کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر ایڈمن ایف ڈی ای ثاقب شہاب نے اپنی دوسری اہلیہ عاصمہ ثاقب جو کہ سابق دورحکومت میں بطور مونٹیسوری ٹیچر کنٹریکٹ پر بھرتی ہوئی تھی کو سول سروس رولز کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انہیں اے جی پی آر کے ریکارڈ میں بطور ریگولر ملازم ظاہر کیا ۔ آن لائن کو دستیاب عاصمہ ثاقب کی اے جی پی آر سے حاصل کردہ جون 2019کی پے سلپ میں انہیں ایک ہی وقت میں ریگولر اور کنٹریکٹ ملازم دونوں درجے دئیے گئے ہیں۔ دوسری طرف ڈائریکٹر موصوف نے اپنی اہلیہ کو ساتھ دیگر کنٹریکچوئیل ایمپلائز کے ہمراہ 6ماہ کا نیا کنٹریکٹ بھی ایوارڈ کر دیا ہے۔ مجوزہ کنٹریکٹ میں عاصمہ ثاقب کو 2016سے بطور کنٹریکچوئیل ایمپلائز ظاہر کیا گیا ہے جبکہ تعلیمی سال 2018میں 3ستمبر سے 29اکتوبر تک موصوفہ نے ود پے 57دن کی چھٹیاں بھی حاصل کیں جو کہ کنٹریکٹ ایمپلائز کا استحقاق نہ ہے۔ ثاقب شہاب کی طرف سے اپنی اہلیہ کو نوازنے کے لئے سول سروس رولز کی دھجیاں اڑانے کے اس عمل پر ایف ڈی ای کے ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ڈائریکر ایڈمنسٹریشن ایف ڈی ای ثاقب شہاب نے آن لائن کے رابطہ کرنے پر اقرار کیا کہ یہ بات درست ہے کہ عاصمہ ثاقب نے سال 2018ء میں 57دن کی تنخواہ سمیت چھٹیاں حاصل کیں۔انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ انکی اہلیہ ایف ڈی ای کی ریگولر ملازمہ ہیں تاہم یہ بات درست ہے کہ انکی اہلیہ کو حال ہی میں چھ ماہ کا کنٹریکٹ دیا گیا ہے ۔انہوں نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ ن کی ذات کے حوالے سے خبریں دینے والے کا انکی بدعائیں تعاقب کرتی رہیں گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…