جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

سڑ ک کنارے بکنے والے ماسک ہرگز مت خریدیں کیونکہ یہ۔۔۔!!! کورونا ٹاسک فورس کے ممبرنے عوام کو متنبہ کردیا

datetime 23  اپریل‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بنائی گئی کورونا ٹاسک فورس کے ممبر پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ کورونا کی وبا کے پیش نظر حالیہ اعداد و شمار اور مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ سینئر طبی ماہرین کے پیش کردہ خدشات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہر طرح کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور دیگر اداروں کو ماسک کے بغیر سڑکوں پر آنے والے شہریوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور انہیں اس امر کا پابند بنانا چاہیے کہ وہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں ۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت نے کورونا کی روک تھام کے لئے اپنے طور پر ہر ممکن قدم اٹھایا ہے جبکہ ہسپتالوں میں بھی کورونا کے مریضوں کے لئے علیحدہ اور خصوصی اقدامات یقینی بنائے گئے ہیں لیکن کورونا کی وبا کی شدت کو سامنے رکھتے ہوئے اس مرض سے بچنے کے لئے ہم سب کو اسے سنجیدگی سے لینا ہوگا اور بالخصوص مئی کے مہینے میں ممکنہ اضافے کی وارننگ کو سامنے رکھنا ہوگا ۔ پروفیسر الفرید ظفر نے نشاندہی کی کہ سڑکوں پر گردو غبار سے اٹے ہوئے حفاظتی ماسک بیچنے والے خود جراثیم پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں ۔اسی طرح زبردستی کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے والے بھی کورونا سے بچاؤ میں کوتاہی کا شکار ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ٹاسک فورس برائے کورونا اپنی جگہ روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہے اور حکومتی اداروں اور شہریوں کو اس مرض سے بچاؤ کے لئے آگاہی اور تجاویز فراہم کی جار ہی ہیں ۔ پروفیسر محمد الفرید ظفر نے امید ظاہر کی کہ انشاء اللہ اگر شہریوں نے تعاون کیا اور حفاظتی اقدامات کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنایا گیا تو کورونا کی وبا سے نمٹنا آسان ہو جائے گا ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…