جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

’’چین نے دوستی کی خاطر صرف پاکستان پر احسان کیا‘‘ وائرس کیسز ووہان میں شروع ہوئےتو چین نے تمام ممالک کے شہریوں کو واپس بھیج دیا لیکن انہوں نے پاکستانی طلبہ سمیت تاجروں کو پاکستان کیوں نہ آنے دیا ؟جب پاکستان میں کرونا آیا تو چین حکومت نے پاکستانی حکومت کو کیا سمجھا دیا تھا ؟اندر کی خبر سامنے آگئی

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار مظہر برلاس اپنے کالم ’’چینی ماہرین آگے نکل گئے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔چین نے وائرس کے آغاز کے دنوں میں تمام ملکوں کو اس کے باسی واپس کر دیے، چین نے صرف پاکستان پر احسان کیا، انہوں نے پاکستانی طالب علموں کو واپس نہ بھیجا، نہ ہی کسی پاکستانی تاجر کو واپس آنے دیا، پاکستان میں مظاہرے بھی ہوئے، عدالتوں میں بھی یہ معاملہ گیا

مگر چین نے پاکستانی حکومت کو سمجھا دیا۔ سو اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں جتنا بھی کورونا آیا، وہ چین سے نہیں آیا۔ وہ ایران، سعودی عرب، امریکا یا پھر یورپی ملکوں سے آیا ہے۔ایک اور بات آپ کو سننے کو ملی ہو گی کہ ووہان والے وائرس سے یہ کورونا وائرس تھوڑا سا مختلف ہے۔ اب دنیا میں جو وائرس پھیلا ہوا ہے، یہ نئی کوڈنگ کے ساتھ ہے۔ امریکا، برطانیہ اور اسرائیل کے پاس جو ویکسین تیار ہے وہ کورونا وائرس کی پرانی کوڈنگ کے مطابق ہے۔انہوں نے اب اس کو آزمایا تو وہ بےاثر نکلی پھر ان کے ماہرین نے کہا کہ کلوروکوین دی جائے، کلورو کوین کے حصول کی خاطر ٹرمپ نے انڈیا کو دھمکی بھی دی مگر افسوس جتنے مریضوں کو کلورو کوین دی گئی وہ جان کی بازی ہار گئے۔ اب جب ان کے پاس علاج نہیں ہے تو انہوں نے اس کا علاج صرف لاک ڈائون ڈھونڈا ہے، مگر کب تک؟ امریکا کے مختلف شہروں میں لاک ڈائون کے خلاف مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ جب وائرس مغربی ملکوں میں آیا تو دو ہفتوں میں اسٹاک ایکسچینج بیس فیصد گری پھر ایک ہفتے میں مزید بیس فیصد گری اور پھر ایک دن میں دس فیصد گر گئی۔ اس صورتحال میں چینیوں نے یورپ اور امریکا کی بہت سی کمپنیاں سستے داموں خرید لیں پھر اسٹاک ایکسچینج کو ایک دن اٹھا کر نہ صرف اپنا نقصان پورا کر لیا بلکہ نفع بھی کما لیا۔اب صرف چین نفع کما رہا ہے۔ ادھر یورپ اور امریکا کے ماہرین کے پاس اس کا علاج بھی نہیں، وہ وائرس کو ڈی کوڈ کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں، یہ صرف چینی تھے جنہوں نے وائرس ڈی کوڈ کر کے نئی کوڈنگ کر دی، اب وہ اپنے دشمنوں کا تماشا دیکھ رہے ہیں، دنیا عجیب ہے، جو علاج ہے اسے مان نہیں رہی، اس میں ڈبلیو ایچ او کا مافیا بھی حائل ہے۔ چین اور مغربی دنیا کے لئے ہی شاید غالبؔ نے کہا تھا کہ؎

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…